ہندوستان کے بعض صوبوں میں حالیہ اسمبلی الیکشن اور ہم ہندوستانی مسلمانوں کا موقف

                      ہندوستان کےبعض  صوبوں میں حالیہ  اسمبلی الیکشن
                     اور ہم ہندوستانی مسلمانوں کا موقف

    ہندوستان کے پانچ صوبوں-یوپی , اتراکھنڈ, گوا, پنجاب اورمنی پور  ۔  میں فروری 2017 ع میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔جن میں بہت ساری قومی و علاقائی پارٹیاں قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ ان میں  سے ایک بڑی قومی پارٹی بی جی پی  بھی ہے جو آج کل ہندوستان کی حکمراں پارٹی ہے ۔بلاشبہ یہ پارٹی دور حاضر میں ہندوستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے ۔ اور مرکز میں حکومت کے علاوہ کئی صوبوں میں بھی اس کی حکومت قائم ہے۔ علاوہ ازیں اس کے پاس وسائل و ذرائع کی بھی فراوانی ہے جو دیگر پارٹیوں کے پاس نہیں ہے۔ لہذا یہ پارٹی اپنے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاکر ان پانچوں صوبوں میں کسی بھی قیمت پر حالیہ اسمبلی الیکشن کو جیتنا چاہتی ہے ۔اور اس کے لیے وہ جان توڑ کوشس کر رہی ہے۔اسی اسمبلی الیکشن کی مناسبت سے میں اپنے تمام انصاف پسند و حق پرست ہندوستانیوں اور خصوصا تمام مسلمان بھائیوں سے چند باتیں شیر کرنا چا ہتا ہوں۔
      ہم سب ہندوستانی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بی جی پی  آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے۔اور آر ایس ایس نہ صرف اسلام و مسلمان دشمن تنظیم ہے بلکہ یہ دلتوں اور تمام نیچی ذات کے ہندووں کی بھی دشمن جماعت ہے ۔ یہ ایک فرقہ پرست منو وادی نظریہ کی حامل تنظیم ہے  جس کا مقصد  نہ صرف بڑی ذات کے ہندووں کے مفادات کی حفاظت کرنا  بلکہ  ان کی بالا دستی قائم کرنا ہے ۔سرمایہ داروں اور کارپوریٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا اور عوام کو ان کا غلام بنانا ہے ۔ اسی وجہ سے اب تک اس حکومت نے جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ سب ہندوستانی عوام خصوصا غریبوں , کسانوں, مزدوروں, اقلیتوں خصوصا  مسلمانوں کے خلاف تھے۔اس کا بد ترین فیصلہ نوٹ بندی کا تھا جس کی سب سے زیادہ تکلیف غریب عوام کو ہوئی اور جس کے برے نتائج دن بدن واضح ہوتے جا رہے ہیں۔
      اسی طرح اس پارٹی کے دور حکومت میں  شروع سے ہی مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کرنے کی  کوئی کسر باقی نہ رکھی گئی ۔کبھی گھر واپسی کا موضوع لایا گیا اور  لو جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا۔تو  کبھی گئو کشی کا واویلا مچایا گیا۔کبھی علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر حملہ کیا گیا۔بسا اوقات مسلمان عورتوں کی ہمدردی میں مگر مچھ کے آنسو بہائے گئے۔ کبھی اسلامی مدارس کو دہشت گردی کا مرکز بتاکر نشانہ بنایا گیا۔ بہت سارے مسلمان نوجوانوں کو دہشت بتاگر گرفتار کیا گیا  اور ان میں سے کئی کو قتل کر دیا گیا۔مسلمانوں کی چار شادی اور چالیس بچوں کا جھوٹا پرچار کیا گیا۔بسا اوقات یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کی وکالت کی گئی۔ غرضیکہ اس پارٹی نے اپنے دور حکومت  میں مسلمانوں کو ہر طرح سے ہراساں و پریشان کیا ہے ۔ان کے حقوق کو سلب کرنے کی ہر ممکن کوشس کی ہے ۔ اور اب بھی کر رہی ہے ۔ اور مجھے مکمل یقین ہے کہ یہ پارٹی مستقبل میں ایوان زیریں و بالا میں مکمل  اکثریت حاصل کرنے پر  مسلمانوں کو حق ووٹ سے بھی محروم کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس کے کئی لیڈر بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹ کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اور اس کی حلیف جماعت شیو سینا نے تو  واضح طور پر مسلمانوں کو حق ووٹ سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ظاہر ہے کہ بی جی پی کی بھی یہی خواہش ہے ۔اور جس دن مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا وہ دن مسلمانوں کا سب سے برا دن ہوگا کیونکہ مسلمان دوسرے درجہ کے شہری بن کر رہ جائیں گے ۔ اور آج ہندوستان میں ان کا جو سیاسی اثر و رسوخ اور وزن ہے وہ بالکل ختم ہو جائے گا۔اور مسلمانوں کی کوئی قیمت نہیں رہ جائیگی۔یہی نہیں بلکہ وہ اپنے دیگر حقوق سے بھی آہستہ آہستہ محروم کر دئیے جائیں گے حتی کہ وہ أپنی زندگی گذارنے کے لائق  بھی نہ رہ جائیں گے وغیرہ ۔ مسلمان تو مسلمان  حد تو یہ ہے کہ اس پارٹی کے دور حکومت میں خود اس کے  ہندو مذہب کے نچلی ذاتوں کے پیروکار بھی  اس کے مظالم سے محفوظ نہ رہ سکے ۔ایسی صورت میں ہم تمام ہندستانیوں خصوصا مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ۔ اسی تعلق سے میں یہ چند باتیں تحریر کر ہا ہوں۔
     میں اپنے ان تمام مسلمان بھائیوں سے گذارش کرتا ہوں جو بی جی پی یا آر ایس ایس کی مسلم ونگ "مسلم راشٹریہ منچ "سے جانے یا انجانے میں کسی بھی طرح جڑے ہوئے ہیں وہ اس  سے فوری طور پر الگ ہوجائیں ۔کیونکہ یہ بلاشبہ ایک فاشسٹ جماعت ہے ۔ اس کا ایجنڈا و پالیسی مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔اس  کی مسلم دشمنی بالکل  واضح ہے ۔ان سب کے باوجود اس پارٹی یا  مسلم راشٹریہ منچ میں باقی رہنا یا اس کی کسی بھی طرح کی مدد کرنا در اصل اسلام و مسلمان دشمنوں کی مدد کرنا ہے ۔ان کو تقویت پہنچانا ہے ۔ اور اپنے لیے خود سے کنواں کھودنے کے مترادف ہے۔اور مسلمان اس  پارٹی سے کسی بھی طرح کی خوش فہمی میں قطعا نہ رہیں  کیونکہ جب یہ پارٹی خود نچلی ذات کے ہندؤؤں کو ان کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ان کے ساتھ انصاف کرنے کو راضی نہیں ہے ۔ تو پھر یہ مسلمانوں کے ساتھ کیسے انصاف کرسکتی ہے اور کیسے ان کا حق دے سکتی ہے؟
    ہم تمام مسلمانوں پر اس پارٹی کے کاموں کو دیکھتے ہوئے  دینی, ملی اور وطنی اعتبار سے واجب ہے کہ اس پارٹی کو قطعا ووٹ نہ دیں۔اور اس کو شکست دینے کے لیے بھر پور جد و جہد کریں۔
    ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنے مسلمان و غیر مسلم دوستوں و پڑوسیوں کو بھی اس پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کریں گے ۔اوراس کے لیے  ان کو ہر ممکن طریقہ سے راضی کرنے کی کوشس کریں گے۔
      یہ دینی, ملی اور وطنی تقاضہ ہے  کہ ہر مسلمان اس پارٹی کے خلاف اپنی طاقت بھر  پرچار کے لیے میدان میں آئے۔اس میں حصہ لے ۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہ رہے ۔ تھوڑا سا وقت اس اہم کام کے لیے ضرور نکالے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یا سیاست ایک خراب چیز ہے ۔ اچھے لوگ اس سے دور رہتے ہیں ۔ یہ سب  جہالت , نادانی اور نا سمجھی کی باتیں ہیں۔ بلکہ اس کے بر عکس یہ ایک دینی, ملی اور وطنی واجب ہے ۔ اس پر بھی ہم کو اجر و ثواب ملے گا۔کیونکہ اس سے ہمارا مقصد اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے ۔ اپنے آئین و دستور کو بچانا ہے جو ہمارے حقوق کا ضامن ہے ۔ اگر ہم اپنے حقوق کی حصولیابی و حفاظت کے لیے خود آگے نہیں آئیں گے تو کیا کوئی دوسرا ہمارے حقوق کی جنگ لڑے گا ؟ اور کیا ہم کو ہمارے حقوق بنا کسی محنت کے حاصل ہوجائیں گے؟
      دھیان رکھیے کہ ان سب کے باوجود اگر ہماری آنکھین نہیں کھلتی ہیں ۔اور ہم خواب خرگوش میں مست رہتے ہیں اور میدان میں آکے محنت نہیں کرتے ہیں تو ہمارا مستقبل اور بھی تاریک ہو سکتا ہے اور ہم  خصوصا ہماری آنے والی نسلیں اور زیادہ پریشانیوں میں پڑ سکتی  ہیں۔ اس لیے ہم میں سے ہر شخص اپنی طاقت و گنجائش کے مطابق جو بھی کر سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کرے ۔
     آج کل شوسل میڈیا کا دور ہے ۔ ہمارے بہت سارے مسلمان بھائی  اس میڈیا سے وابستہ ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ بھی دوسروں کو اپنی رائے سےنہ صرف  مطلع کر سکتے ہیں بلکہ  ان کو مطمئن کرکے اپنا ہم خیال بھی بنا سکتے ہیں۔اور بی جی پی کے خلاف ایک بیداری مہم بھی چلا سکتے ہیں۔ لہذا اس اہم  میڈیا کا استعمال ضرور کریں اور ان ویڈیوز کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں جن میں بی جی پی کی حقیقت صحیح معنی میں اجاگر کی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر یہ ویڈیو بھی شیر کر سکتے ہیں: 
https://youtu.be/XHvrKYR_7jc
     اگر یہ حکمت عملی اپنائی جائے تو میرے خیال میں  زیادہ بہتر ہوگا کہ اگر کسی سیٹ پر بی جی پی یا کسی دیگر فرقہ پرست جماعت کو چھوڑ کےکسی بھی پارٹی کا  کوئی مسلم امید وار ہےاور اس کے الیکشن میں کامیاب ہونے کی زیادہ امید ہے تو تمام مسلمان متفق ہو کے اس کو ووٹ دیں۔ ورنہ بی جی پی کو چھوڑ کے جس بھی پارٹی کے امیدوار کے کامیاب ہونے کی زیادہ امید ہے تو اس کو ووٹ دیں تاکہ مسلمانوں کا ووٹ ضائع نہ ہو۔
       اور اگر کسی سیٹ پر تمام پارٹیوں کے سبھی امید وار مسلمان ہیں جیسا کہ ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور ان کا ووٹ فیصلہ کن ہوتا ہے ۔ایسی صورت میں  مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کے لیے کسی ایسی پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کریں جو انتخاب میں کامیاب ہو رہا ہے ۔اور اسی کو اپنا ووٹ دیں تاکہ آپ کا ووٹ ضائع نہ ہو۔
     امید وار کے انتخاب میں بھی اس کے ریکارڈ اور اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے تئیں اس کے رویہ کو پیش نظر رکھیں۔
     ووٹنگ کے دن خود جلد از جلد ووٹ ڈالنے کی کوشس کریں ۔ پھر بی جی پی مخالف تمام لوگوں کو بھی جلد از جلد ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کریں ۔ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ووٹ ڈلوائیں تاکہ بی جی پی کو شکست فاش ہو۔
      یاد رکھیے کہ ہندوستان کی حفاظت , اس کی جمہوریت نیز آئین و دستور کی حفاظت , فرقہ پرستی سے اس کو بچانا یہ صرف سیکولر پارٹیوں یا غیر مسلم سیکولر و جمہوریت پسندوں کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ہر انصاف پسند و حق پرست ہندوستانی  خصوصا مسلمانوں کا کام ہے۔اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم مل جل کر کو شس کریں اور تمام فرقہ پرست طاقتوں  خصوصا بی جی پی کو شکست سے ہمکنار کریںجو  موجودہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ اور بی جی پی کو شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ یہ تو بہت آسان ہے ۔ کیونکہ ہم صرف مسلمان ہی اس کے مخالف نہیں ہیں ۔ بلکہ ہندوستان کی بہت ساری غیر مسلم  سیاسی پارٹیاں , غیر سیاسی  تنظیمیں, جماعتیں  اور 90 فیصد انصاف و حق  پرست ہندو خود اس کے مخالف ہیں۔یہ تو ہماری خاموشی, سہل پسندی, سستی اور کاہلی اور آر ایس ایس کی انتھک محنتوں و کوشسوں  کا نتیجہ ہے کہ پی جی پی آج حکومت میں ہے ۔
     یاد رکھیے کہ یہ ایک سنہرا موقع ہے جو جلدی جلدی اور بار بار ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ لہذا اس کو ضائع نہ کریں اور ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ہم اگر اب بھی بیدار نہیں ہوئے تو بہت دیر ہوجائے گی ۔ وقت نکل جائے گا۔ اس وقت ندامت کا اظہار کرنے اور کف افسوس  ملنے سے حسرت کے علاوہ اور کچھ نہیں ملے گا۔
                                                و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔





التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: