ترکی میں متعین روسی سفیر کے قتل کا شرعی جائزہ

               ترکی میں متعین  روسی سفیر کے قتل کا شرعی جائزہ

21 دسمبر 2016 ع کی شب میں یہ خبر آئی کہ ترکی میں متعین روسی سفیر کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ جس پر بہت سارے مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اور قاتل و مجرم کو شیر , غیور و ہیرو قرار دیا۔اور یہاں تک لکھ دیا کہ مسلمانوں نے حلب کا بدلہ لے لیا۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام میں سفیر ہی نہیں  بلکہ کسی بھی انسان کو خواہ وہ مسلمان ہویا  کافر  اس کے قتل کرنے کا کیا حکم ہے؟
 لیکن اس سے پہلے کہ میں اس مسئلہ کا  شرعی حکم بیان کروں اس چیز کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ حلب یا فلسطین یا برما یا دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بلا شبہ جو بھی یہ ظلم کر رہا ہے وہ  ظالم ہے اس کو ظلم کی سزا ملنی چائیے ۔ ہم ظالم کی کسی بھی طرح سے حمایت نہیں کرتے ہیں بلکہ ہم اس کو جلد از  جلد ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کا شرعی طریقہ ہے ۔ اسی طریقے کو اپنا کرکے ہمیں ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔ اور ظلم یا غلطی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ہم بھی ظلم کرنے لگیں اور ظالم بن جائیں۔کیونکہ ظلم کو ظلم سے نہیں ختم کیا جاسکتا ہے۔
ایک بات اور جس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ یہ ایک المیہ ہے کہ آج کے مسلمانوں کی اکثریت دینی احکام سے غافل  و جاہل ہے ۔ اسی وجہ سے بہت سارے مسلمانوں نے اس قتل پر خوشی منائی۔ اور قاتل کو ہیرو تک قرار دے ڈالا۔ یہ دینی احکام سے جہالت کی دلیل ہے۔ اس کے بہت سارے وجوہات ہیں جن میں ایک سب سے بڑی وجہ خو مسلمان ممالک کا دینی تعلیم کا اہتمام نہیں کرنا ہے۔اسی طرح ہم مسلمان بھی دینی تعلیم کا خود اہتمام نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنی روز مرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دن بھر مصروف رہتے ہیں لیکن یہ ہمیں توفیق نہیں ہوتی کہ اپنا کچھ ٹائم نکال کے دینی تعلیم سیکھیں۔ ہم اپنا کتنا وقت فضول میں فلمیں دیکھنے , سیریل , ڈرامہ, کامیڈی  وغیرہ دیکھنے, لا یعنی و فضول باتوں میں گذار دیتے ہیں لیکن تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ یہ کس قدر دکھ, تکلیف و افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس صدی میں ہر طرح کے وسائل میسر ہونے کے باوجود قرآن پڑھنا جانتی ہی نہیں ہے تلاوت تو خیر بہت دور کی بات ہے۔خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر زیادہ تفصیل سے یہاں گفتگو نہیں کی جا سکتی ہے۔اس کا کوئی تنہا ذمہ دار نہیں بلکہ ہم سب ذمہ دار ہیں۔
اب آتے ہیں  اصل موضوع پر ۔ اور وہ ہے ترکی میں روسی سفیر کا قتل ۔ در اصل اس موضوع کے کئی  پہلو ہیں جو درج ذیل ہیں:---
1-     کیا کسی سفیر کا اسلام میں قتل کرنا جائز ہے؟
2-   اگر قتل کرنا جائز ہے تو یہ کام کون انجام دے گا حکومت یا کوئی بھی شخص؟
3-   قاتل کا کیا حکم ہے؟
4-   جنگ سوریا میں ہورہی ہے تو ترکی میں متعین سفیر کو نشانہ بنانا کیسا ہے؟ وغیرہ
آئیے سب سے پہلے  یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کسی سفیر کا اسلام میں قتل کرنا جائز ہے؟
          تو اس کا جواب یہ ہے کہ سفیر ہی کیا بلکہ کسی بھی مسلمان ملک یا غیر مسلم ملک میں مقیم کسی بھی  معصوم غیر مسلم کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں ہے۔اس پر میں نے تفصیل سے اپنے موضوع " امن عالم اور اسلام  " میں روشنی ڈالی ہے۔ اس کا مطالعہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ میں یہاں سفیر کے تعلق سے صرف ایک دلیل  پیش کرتا ہوں۔حدَّثَنَا فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ : ثنا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ : ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ رَسُول مُسَيْلِمَةَ بِكِتَابِهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لَهُمَا : " وَأَنْتُمَا تَقُولانِ مِثْلَ مَا يَقُولُ ؟ " فَقَالا : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا لَوْلا أَنَّ الرُّسُلَ لا تُقْتَلُ ، لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا " .": (رواه أحمد وأبو داود، وصححه الألباني)
یہ حدیث صحیح ہے اور علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ۔ اس میں مذکور ہے کہ جب مسیلمہ کذاب کا رسول  یعنی ایلچی نبی کریم کے پاس اس کا خط لیکر حاضر ہوا اور وہ خط آپ کے سامتے پڑھا گیا  تو رسول اللہ نے ان دونوں سے سوال کیا کہ کیا تم دونوں بھی وہی کہتے ہو جو وہ کہتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: ہاں۔  یہ سن کر آپ نے فرمایا سن لو اللہ کی قسم اگر سفراء قتل نہ کیے جاتے تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا ۔
اسی وجہ سے آپ نے ان دونوں کو قتل نہیں کیا ۔ معلوم ہوا کی کسی بھی سفیر کا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔
أب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سفیر یا کوئی بھی غیر مسلم شخص غلط کام  کرتا ہے تو کیا عام مسلمان بھی اس کو سزا دے سکتا ہے؟
اس کا بھی جواب نفی میں ہے ۔  ہماری شریعت کسی کو بھی  قانون کو ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے ۔ اگر کوئی بھی آدمی جرم کرتا ہے تو ہم اور آپ کون ہیں کہ اس کو سزادیں۔ یہ کام حکومت اور اس کے اداروں کا ہے۔ قاضیوں اور کورٹ کا  ہے ۔ اللہ کی قسم اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو پکڑ لیتا ہے یا کسی شخص کو زنا کرتے ہوئے یا کوئی بھی غلط کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس پر خود سے حد نہیں نافذ کر سکتا ہے ۔ اگر وہ خود سے حد نافذ کرتا ہے تو وہ خود سے مجرم بن جائیگا۔ اس کا کام ہے کہ وہ اس کی شکایت حکومت کو کرے ۔ اگر قاتل یا چور کو پکڑا ہے تو اس کو حکومت کے حوالہ کردے۔اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہ کرے ۔ خود سوچئے کہ اگر ہم میں سے ہر شخص خودہی قاضی بن کر فیصلہ کرنے لگے اور خودہی سزائیں بھی دینے لگے۔ توپھر کتنی بدامنی , اضطراب اور ہنگامہ ہوگا۔ اور کیا ایسی صورت میں کسی کا بھی جان و مال محفوظ رہے گا۔ بلکہ ہر طاقتور شخص و گروپ اس کا ناجائز فائدہ اٹھائے گا اور جب چاہے گا کسی کے اوپر کوئی بھی الزام لگا کے اس کے جان و مال کو حلال کرلے گا۔
 لہذا  مان لیجیے کہ اگر روسی سفیر نے کوئی ایسی غلطی ہے جس سے اس کا خون حلا ل ہوگیا ہے تو یہ سزا حکومت  اور کورٹ دے گی  ۔ کسی عام انسان کو اس میں دخل دینے کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔قانون کی پابندی بہر صورت ہر انسان کو کرنی ہے ۔ قانون شکنی بھی ایک جرم ہے۔  
اب تیسرے سوال پر آتے ہیں کہ جس نے یہ جرم کیا ہے تو کیا وہ مسلمانوں کا ہیرو , شیر اور ایک غیور شخص ہے یا وہ ایک بزدل , جاہل اور احمق شخص ہے ۔ جس نے اپنے اس فعل بد سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا۔اور اس کا حکم کیا ہے۔
 توشریعت کی روشنی میں بلاشبہ یہ ایک بزدلانہ, احمقانہ اور جاہلانہ قدم  ہے ۔ اور ایسا کرنے  والا جاہل , بد بخت اور احمق ہے۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ اور شریعت کی روشنی میں بعض علماء و فقہاء کے مطابق  اس  قاتل کی سزا سزائے موت ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مسلمان  کسی معاہد و ذمی کو بلا کسی وجہ کے ناحق قتل کرتا ہے تو اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائیگا۔ اور اس کو جنت کی خوشبو نصیب نہیں ہوگى۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :من قتل نفسا معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ  و ان ریحہا لیوجد من مسیرۃ أربعین عاما( بخاری/باب اثم من قتل معاہدا بغیر جرم , حدیث نمبر3166 و 6914), اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ کے زمانہ میں ایک مسلمان کو ایک ذمی کے بدلہ میں قتل کیا گیا۔ اور آپ  نے فرمایا انا احق من أوفی بذمتہ یعنی جس نے اپنا عہدو پیمان پورا  کیا تو میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔( دیکھیے دارقطنی/ حدیث نمبر3309) لہذا ترکی کو چاہیے  کہ وہ جلد جلد اس مجرم کو پھانسی پر لٹکائے ۔علاوہ ازین عدالت کا بھی تقاضہ یہی ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے : ولا یجرمنکم شنآن قوم على أن لا تعدلوا اعدلوا ہو أقرب للتقوى  ( المائدہ/8) یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو ۔ بلکہ ضرور انصاف کرو کیونکہ وہی تقوى کے زیادہ قریب ہے۔
اب چوتھے  پہلو پر آتے ہیں ۔ ہم سب جانتے کہ یہ جنگ سوریا میں ہورہی ہے ۔ تو پھر ترکی میں متعین سفیر کا اس سے کیا واسطہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ وہ بے گناہ ہے اور اسلام میں کسی بھی بے گناہ کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔اور اگر مان لیا جائے کہ اس کا اس سے تعلق بھی ہے تب بھی شریعت کی رو سے اس کا قتل جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ دین اسلام میں جنگ کے بھی اصول و ضوابط ہیں جو بہت صراحت کے ساتھ موجود ہیں۔جو لوگ میدان جنگ میں ہیں انہیں کو آپ قتل کر سکتے ہیں ۔ کسی دوسرے کو نہیں۔اسی وجہ سے اسلام نے  بحالت جنگ بچوں , عورتوں  اور عبادت خانوں میں موجود راہبوں وغیرہ کو قتل کرنے سے روکا ہے۔
معلوم ہوا کہ بحالت جنگ بھی صرف انہیں کافروں کو قتل کیا جائے گا جو جنگ میں شریک ہوں۔ دوسروں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔
ان سب کے علاوہ کسی سفیر کے قتل کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نبی کریم نے اپنے سفیر حارث بن عمیر ازدی کے شہید کیے جانے کی وجہ سے جنگ موتہ کیا تھا۔ اسی طرح  الجزائر پر فرانس کے قبضہ کے اسباب میں سے ایک سبب فرانس کے سفیر کے ساتھ الجزائر کی بدسلوکی تھی ۔ صرف بد سلوکی قتل نہیں۔سفیر کا قتل  تو بد ترین جرم ہے ۔ اس سے جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے۔اور کئی ملکوں میں پھیل سکتی ہے۔
اب میں اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ کسی بھی شخص کا ناحق قتل اسلام میں بالکل نہیں جائز ہے ۔کیونکہ اسلام میں انسانی نفس کی بہت زیادہ حرمت و عظمت ہے ۔ لہذا روسی سفیر کا قتل شرعی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اور اس پر خوشی نہیں منانی چائیے۔ بلاشبہ روس ایک جابر و ظالم ملک ہے ۔ اس نے ماضی میں مسلمانوں پر بہت زیادہ ستم و  ظلم ڈھائے ہیں۔ لاکھوں کڑوروں  مسلمانوں کو تہ تیغ کیا ہے۔کئی مسلمان ممالک کو تباہ و برباد کیا ہے  بلکہ ایک عرصہ تک کے لیے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا ہے۔عثمانی سلطنت کو کمزور کرنے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ اور اب بھی  اس کا ظلم و ستم جاری ہے ۔ لیکن  جیسا کہ میں نے تحریر کیا کہ ظلم کا بدلہ  ظلم نہیں ہے اور نہ ظلم کے ذریعہ ظلم کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔بلکہ اس کو شرعی طریقے سے ہی عدل و انصاف کے ذریعہ , کتاب و سنت پر عمل کرکے او اپنی خامیوں و برائیوں کو دور کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی اور کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔
 وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: