حلب کے لیے دعائیں

                                                    حلب کے لیے دعائیں
                                                  کیا حلب کا مسئلہ صرف  دعاؤں سے حل ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبال رحمہ اللہ نے اپنے زمانہ کے مسلمانوں کے حالات کو دیکھ کر سچ  فرمایا تھا:
    دنیا تو گئی چاند ستاروں سے بھی آگے                       ہم بیٹھے مصلی پہ دعا مانگ رہے ہیں  
ادھر تین دنوں (آج 17 دسمبر ہے)سے اردو و عربی دونوں میں بکثرت پیغامات و میسجز حلب کے بارے میں واٹس اپ پرگردش کر رہے ہیں ۔ جن میں عام طور سے  حلب پر ہورہے مظالم کا بیان ہوتا ہے اور پھر آخر میں دعاؤں کی گذارش ہوتی ہے ۔ کچھ پیغامات تو صرف دعاؤں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اور ان دعاؤں کو خوب زیادہ فاورڈ کرنے اور آگے بڑھانے کی گذارش کی جاتی ہے۔
سب سے پہلے تو میں یہ وضاحت کردوں کہ بلا شبہ اسلام میں دعاؤں کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت ہے ۔ خود ہمارے نبی , آپ کے اصحاب اورہمارے  اسلاف خوب دعائیں کرتے تھے۔ ہمارے نبی نے غزوہ بدر کے موقع پر بہت طویل و لمبی دعا کی تھی ۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے آپ کے پاس آکر فرمایا: اتنی دعا کافی ہے ۔ اب بس کیجیے۔اور میں بھی دعاؤں کا منکر نہیں ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حلب, فلسطین , ترکستان , برما وغیرہ کے مسائل صرف اور صرف دعاؤں سے حل ہوجائیں گے۔ یا اس کے لیے دعاؤں کے ساتھ دوا اور عمل کی بھی ضرورت ہے؟ شریعت , ہمارے نبی کی سیرت اور تاریخ اسلامی سے کیا پتہ چلتا ہے؟
اس سلسلے میں خاکسار کا یہ کہنا ہے کہ کہ کوئی بھی مسئلہ صرف اور صرف دعاؤں سے حل نہیں ہوتا ہے۔ دعا کے ساتھ دوا و عمل  بھی ضروری ہے ۔یہی شریعت , ہمارے نبی کی سیرت اور اسلاف کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے۔کیونکہ:
اللہ و اس کے رسول نے خود جہاد کا حکم دیا ہے ۔بہت  ساری آیات اور أحادیث میں جہاد کا حکم ہے ۔ میں ان تمام آیات و احادیث کا ذکر نہیں کر رہا ہوں جن میں جہاد کا صریح حکم موجود ہے ۔ میں صرف اس ایک آیت کا ذکر کرہا ہوں جس میں اللہ نے کمزور مردوں , عورتوں اور بچوں کو ظالموں کے ظلم سے نجات کے لیے جہاد کا حکم دیا ہے ۔ فرمان باری تعالى ہے: و ما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ و المستضعفین من الرجال و النساء و الولدان الذین یقولون ربنا أخرجنا من ہذہ القریۃ الظالم أہلہا و اجعل لنا من لدنک ولیا و اجعل لنا من لدنک نصیرا(نساء /75) ترجمہ: اور تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ اور کمزور مردوں , عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کر رہے ہو جو دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ۔ اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔
سوچنے اور غور و فکر کرنے کی بات ہے کہ اس آیت میں اللہ رب العالمین نے کمزورں کی مدد اور ان کو ظالموں سے نجات اور رہائی  کا جو طریقہ  بتلایا ہے وہ جہاد ہے ۔ تو کیا پھر اس سے بہتر اور کوئی طریقہ ہو سکتا ہے؟ بلا شبہ اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔اور  دعاؤں کی نسبت مظلوموں کی طرف کی ہے کہ وہ دعائیں مانگ رہے ہیں ۔معلوم ہوا کہ صرف دعاؤں سے مظلوموں کو نجات نہیں مل سکتی ہے۔  اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ شرعی جہاد ہے۔
 اگر صرف دعاؤں سے مسائل حل ہوجاتے تو اللہ نے اپنے نبی کو دعوت و تبلیغ کرنے, جد و جہد کرنے اور جہاد کرنے کا حکم کیوں دیا۔اسی طرح اگر صرف دعاؤں سے مسائل حل ہوتے تو ہمارے نبی کریم , آپ کے اصحاب اس کے زیادہ حقدار تھے کہ وہ صرف  دعائیں کرتے اور اس وقت مسلمانوں کے تمام مسائل و پریشانیاں سکنڈوں میں دور ہوجاتیں ۔ لیکن آپ کی سیرت اور تاریخ اسلامی سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے ۔ اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ اسی وجہ سے آپ نے خود جہاد کیا۔ آپ کے اصحاب نے جہاد کیا ۔ اس کے بعد خلفاء راشدین, اموی, عباسی اور عثمانی  اور دیگر مسلمان حکومتوں و حکمرانوں نے جہاد کیا۔
کیا کسی کو اس امر میں شک ہے  کہ اگر ہمارے نبی اللہ پاک سے دعائیں کرتے اور آپ کی دعا قبول نہ ہوتی؟ ہر گز نہیں۔ آپ کی دعا کی قبولیت میں کسی بھی مسلمان کو ادنى شک نہیں ہے۔اس کے باوجود آپ نے جہاد کیا۔ اسباب و وسائل کو اختیار کیا۔ میدان جہاد میں خود شریک ہوئے۔ زخمی ہوئے ۔ تکلیفیں  اٹھائیں۔کیا آپ کو معلو م ہے کہ نبی کریم کے زمانے میں کل تقریبا 100 غزوات و سرایا ہوئے ہیں۔ آخر آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ آپ تو آخری  اور سب سے افضل رسول و نبی تھے۔ آپ  صرف دعا سے کام چلا سکتے تھے ۔ لیکن آپ نے  ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ امت کو یہ درس دینا چاہتے تھے اور اس کو صرف قولی طور پر نہیں بلکہ عملی و فعلی طور پر یہ واضح طور سے بتلا دینا چاہتے تھے کہ یہ دنیا ہے ۔ اور دنیا میں اسباب و سائل کو اختیار کرنا واجب و ضروری ہے ۔ لہذا اے میرے امتیو تم اس ناحیہ سے غافل مت ہوجانا اور صرف دعاؤں پر اکتفا نہ کرلینا۔ورنہ تم تباہ  و برباد ہو جاؤ گو۔
میں ایک آسان مثال دیتا ہوں۔ کوئی شخص بھوکا و پیاسا ہے ۔ کھانا و پانی اس کے سامنے موجود ہے ۔ لیکن وہ کھانا و پانی کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کے منہ میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ بلکہ وہ صرف اللہ تعالى سے دعا کرنے پر مصر ہے کہ اے اللہ تو مجھے کھلا دے۔ تو مجھے پلا دے ۔ تو کیا ایسا ہونے والا ہے ۔ واضح ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہونے والا ہے ۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اللہ کی دنیاوی سنتوں کے خلاف  ہے۔ اللہ کے کچھ قوانین ہیں جو اس نے اس دنیا کے لیے بنا رکھے ہیں۔ اور انہیں کے ذریعہ یہ دنیا اور اس کے امور انجام پارہے ہیں۔ جن کو سنن یا قوانین الہیہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اسی طرح کی دیگر مثالیں بھی ہیں جو بالکل واضح ہیں
 مثلا امتحان میں کامیابی کے لیے طالب علم کا پڑھنا ضروری ہے ۔ ورنہ وہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی طرح گھر کی تعمیر کے لیے بالو , اینٹ , پتھر اور دیگر لوازمات کو جمع کرنے کے بعد بھی تعمیر ضروری ہے ۔ گھر خود بخود نہیں تیار ہوجائے گا۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔یہ سب چیزیں واضح ہیں۔میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ دنیا ہے ۔ وسائل و اسباب کو اختیار کرنا ضروری ہے ۔ صرف دعاؤں سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ یہی ہمارے نبی کی سیرت سے درس ملتا ہے۔
 یہاں پر ایک آدمی کہ سکتا ہے کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ تو یہ سب بھی کر سکتا ہے ۔ لہذا میں صرف دعائیں کروں گا۔تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس میں کیا شک ہے کہ اللہ جل و علا ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس کےصرف  کن کہنے سى ہر چیز ہو جاتی ہے ۔ لیکن اسی اللہ نے  اس دنیا کے لیے جو قوانین و سنن بنائے ہیں وہ ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا ہے۔کیا اللہ نے اپنے نبی کا گھر کن کہنے سے تعمیر کردیا؟ کیا آپ کے اصحاب کو روزی بنا محنت و مشقت کے مل جاتی تھی؟ کیا صحابہ کرام و خلفاء راشدین کو دشمنوں پر فتح و غلبہ صرف دعاؤں سے جہاد کے بغیر حاصل ہوگیا؟ ظاہر ہے ان سب کا جواب نفی میں ہے۔ جب ان کے لیے یہ سب نہیں ہوا تو پھر آج کے دور میں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
پوری اسلامی تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔میں چند مثالوں کا تذکرہ بغیر تفصیل کے صرف یاد دہانی کے لیے کروںگا۔
      کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر نے  ربیع الاول سن 11 ھ میں خلافت سنبھالی تو کون سی بھیانک و خطرناک مصیبت کا انہوں نے سامنا کیا تھا۔وہ  عظیم مصیبت اکثر مسلمانوں کا مرتد ہوجانا تھا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ اتنی بڑی مصیبت تھی کہ قریب تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے؟
      اس عظیم خطرہ کا حضرت ابوبکرنے کس طرح مقابلہ کیا؟ کیا انھوں نے صرف دعاؤں کا سہارا لیا یا  ساتھ میں جہاد بھی  کیا۔بلا شبہ انھوں نے دونوں کا سہارا لیا ۔ دعاؤں کے ساتھ انہوں نے زبردست جہاد کرکے  اسلام اور مسلمانوں کو اس خطرہ سے نجات دیا۔اور اس امت پر عظیم احسا ن کیا۔
      خلفاء راشدین نے اسلام کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے کیا صرف دعاؤں پر اکتفا کیا یا اپنے جان و مال کی بازی لگائی؟ کتنے صحابہ کرام اور مسلمان میدان جنگ میں شہید ہوئے ۔ صرف جنگ قادسیہ میں 8 ہزار مسلمان شہید ہوئے۔
      مسلمان حکمرانوں خصوصا نورالدین زنکی , عماد الدین زنکی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو ملک شام سے نکالنے , ان کی سلطنتوں کا خاتمہ کرنے اور بیت المقدس کو آزاد کرانے کے لیے کیا صرف دعاؤں پر کفایت کی۔ یا جہاد بھی کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین ربیع الثانی 583 ھ میں صلیبیوں کو ایسی زبردست شکست دی جو وہ آج تک نہیں بھولے ہیں۔
     عثمانی حکومت نے مسلمانوں, مقامات مقدسہ کی حفاظت اور یورپ میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے کیا صرف دعاؤں کا سہارا لیا یا ساتھ میں جہاد بھی کیا۔ان کے جہادی کارناموں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ وہ عثمانی حاکم جس نے  857 ھ میں قسطنطنیہ کو فتح کرکے ایک شاندار تاریخ رقم کی اور نبی کی بشارت کا مستحق ہوا وہ کوئی اور نہیں محمد الفاتح تھا۔کیا اس نے قسطنطنیہ دعاؤں سے فتح کیا تھا؟
     اس طرح کی سیکڑوں مثالیں ہیں ۔ میں ان کی تفاصیل میں جانا نہیں چاہتا ہوں۔ کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہے ۔ میں صرف اور صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اے آج کے مسلمان حکمرانو, علماء اور عام افراد : ہوش کے ناخن لو۔ صرف دعاؤں سے مسائل نہیں حل ہوتے ہیں۔ اگر صرف دعاؤں سے مسائل حل ہوتے تو ہمارے نبی, آپ کے اصحاب اور ہمارے اسلاف ہم سے  کہیں زیادہ  اس کے مستحق تھے۔
    لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں ہم تمام مسلمانوں نے کتاب و سنت , شریعت اور اپنے اسلاف کی روش کو چھوڑ کے صوفیاء کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ۔ اور صرف دعاؤں کے بل پر مسلمانوں کے تما م مسائل حل کرنا چاہتے ہیں جو یقینا ہونے والا نہیں ہے۔اور یہ کسی خواب و خیال سے کم نہیں ہے۔
      اگر ہم مسلمانوں کے تمام مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔ اور وہ ہے امت کے حالات کو بدلنا,مسلمان حکمرانوں , علماء اور عوام کا بدلنا جیسا کہ میں نے ایک دوسرے مضمون "أمت کی زبوں حالی  اسی وقت ختم ہو گی  جب یہ امت خود کو بدل لے گی" میں بیان کیا ہے۔کیونکہ ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم (رعد/11) اس کے بغیر مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں اور وہ  تبدیلی ہے شریعت کی مکمل پابندی۔ شریعت کے تحت تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی ذاتی مفادات و مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اورأپنے تمام  اختلافات  کو بھلاتے ہوئے  اللہ کے حکم (و أطیعوا اللہ و رسولہ و لا تنازعوا فتفشلوا و تذہب ریحکم)   (انفال /46) و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا ( آ ل عمران/103)کے مطابق ایک ہونا ہوگا۔کامل  اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔خلافت کا احیاء کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہر طرح کی تیاری کرنی ہوگی جیسا کہ و أعدوا لہم ماستطعتم میں حکم ہے ۔ پھر جہاد کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے ۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس دور کے حکمراں , علماء اور عوام کوئی بھی بدلنے کو تیار نہیں  ہیں۔اور ان سب کے باوجود اگر ہمارے علماء و حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں  تو اس امت کا اللہ ہی حافظ ہے۔اس امت کی پریشانیاں و مسائل کم یا ختم ہونے کے بجائے زیادہ ہوتی رہیں گی۔ مسلمان یوں ہی تباہ و برباد ہوتے رہیں گے۔ ان کی عزتیں پامال ہوتی رہیں گی۔اور یہ امت دوسروں کی محتاج و ان کے زیر نگیں رہے گی۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ جب سمرقند پر تتاریوں کا حملہ ہوا تو وہاں کے صوفیوں نے کہا کہ چلو مسجد میں بیٹھ کر اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں سب کے سب قتل کر دئیے گئے۔
                                    کیا یہی حالت اور رویہ اس امت کا آج کے دور میں نہیں ہے؟
      و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین










التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: