اسلام میں رسوم و رواج اور عادات و تقالید کا حکم (تیسری و آخری قسط)

<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-4702673796649958"
     crossorigin="anonymous"></script>

       اسلام میں رسوم و رواج اور عادات و تقالید کا حکم 

 Ruling on Customs, Rituals & traditions in Islam 

                                                                                   تیسری وآخری  قسط

  شادی و بیاہ کے رسوم و رواج کےبد اثرات و نقصانات کا   تفصیلی جائزہ

                     (دوسری قسط میں مذکور اصول و قواعد کی روشنی میں)

-----------------------------------------------------------

یہ موضوع درج ذیل چار عناصر پر مشمل ہے:

1.      رسوم و رواج کا اسلامی اصول و ضوابط کے خلاف ہونا

2.    رسوم و رواج کے بد اثرات و نقصانات

3.    رسوم و رواج کا حکم جان لینے کے بعد ان  پر عمل کرنے کا حکم

4.    رسوم و رواج کو مٹانا اصلاح و جہاد اور سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

 ----------------------------------------

رسوم و رواج کا اسلامی اصول و ضوابط کے خلاف ہونا:

علماء و فقہاء کے بیان کردہ اصول و ضوابط سے واضح ہوجاتا ہے کہ شادی کے مروجہ تمام رسوم و رواج خصوصا منگنی ,  بارات , جہیز وغیرہ اسلام  و شریعت مخالف ہیں ۔ ان پر عمل کرنا سراسر ناجائز ہے۔کیونکہ ان کے اندر درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:----

 اسلام میں شادی کا  عام  اصول ومقصد شادی کو انتہائی آسان بنانا , اس میں ہر قسم کی آسانی پیدا کرنا ہے  تاکہ غریب و مالدار , فقیر و غنی   غرضیکہ  ہر  مسلمان مرد و عورت  شادی کے مقدس بندھن میں بندھ سکیں اور اپنی  فطری جنسی خواہش کو حلال و شرعی طریقہ سے پوری کر سکیں جس سے سماج ایک زبردست فساد و بگاڑ سے محفوظ رہے۔ جب کہ شادی کے مروجہ  رسوم و رواج منگنی,   بارات و جہیز وغیرہ سراسر اس قاعدہ کے خلاف ہیں۔ ان سے آسانی کے بجائے بہت زیادہ  پریشانی ہوتی ہے ۔شادی بہت دشوار ہوجاتا ہے جس سے بہت سارے لوگ بے شادی شدہ رہ جاتے ہیں۔سماج میں اس سے بے انتہا فساد و بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔اس کی مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔

ان رسوم و رواج یا عرف یا عادت میں عوام کے لیے کوئی غالب صلاح و فائدہ  نہیں پایا جاتا ہے  بلکہ ان میں سراسر نقصان و ضرر ہے ۔ اقتصادی و معاشی بوجھ ہے ۔یا ان سے کوئی فساد دور نہیں ہوتاہے بلکہ فساد پیدا ہوتا ہے  اور سماج میں اس سےبہت زیادہ  خلل واقع  ہوتا ہے۔ لوگ مقروض ہوتے ہیں۔ دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے واقع ہوتے ہیں۔ وغیرہ

 اہل علم نے ان عادات و تقالید پر مضبوطی سے عمل کرنے کو جن میں لوگو کے لیے مشقت ہے اور جو خرابیوں و بگاڑ تک لے جانے والی ہیں یا  بعض اختلاف و تنازعہ  کا باعث ہیں یا مشقت کا سبب ہیں , ان تمام کو علماء نے قابل مذمت غلو سے شمار کیا ہے  اور شریعت میں ممنوع تکلف و تشدد سے شمار کیا ہے۔شادی کے رسوم و رواج میں یہ تمام خرابیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ان میں  تمام لوگو خصوصا فقراء و مساکین کے لیے بہت زیادہ مشقت و پریشانی ہے۔ امام و خطیب مسجد حرام , مکہ  شیخ صالح بن حمید فرماتے ہیں:----

أعراف سيئة تكلِّف الناسَ المشقةَ والعنتَ وتستنزف منهم الجهدَ والمالَ والوقتَ، يُلزمون بها أنفسَهم إرضاءً لغيرهم واتقاءً لنقدهم، يتكلفون ما لا يطيقون، ويفعلون ما لا يحبون، وينفقون وهم كارهون، فكيف إذا كانت عادات وأعرافا مخالفة للشرع، ضارة بالصحة والعقول، مسيئة للأخلاق والقيم؟!

یہ بری عادتیں و اعراف ہیں جو لوگو کو مشقت و پریشانی میں مبتلا کرتی ہیں ۔ ان کے  محنت , مال و وقت کو نگل لیتی ہیں ۔ وہ غیروں کو خوش کرنے  اور ان کی تنقید سے بچنے کے لیے أپنے کو اس کا پابند بنا لیتے ہیں ۔ اپنی طاقت سے زیادہ کا اپنے کو مکلف بناتے ہیں ۔ جو پسند نہیں ہوتا ہے وہ کرتے ہیں ۔ اور خواہش کے نہ ہوتے  ہوئے بھی خرچ کرتے ہیں ۔ لہذا ان اعراف و عادات کے بارے میں کیا کہنا ہے جو شریعت کے مخالف ہیں ۔ تندرستی و عقل دونو کو نقصان پہنچانے والے ہیں ۔ اخلاق و اقدار دونو کو بٹہ لگانے والے ہیں۔

مزید فرماتے ہیں:---

أيها الإخوة: وتأملوا في بعض عادات المجتمعات السيئة؛ في الزواج والولائم والمآتم والمجاملات في تكاليف باهظة، ونفقات مرهقة، بل ديون متراكمة، ومن ثم يكون التواصل والتزاور وإجابة الدعوات عند هؤلاء هَمًّا وغَمًّا، بدلا من أن يكون فرحا وسرورا، فالتزاور بالأُنْس والمباسطة ولذة المجالسة، وليس بالمفاخرة والتكلف وإظهار الزينة، والتفاخر والتباهي مما يجعل الحياة هما وشقاء وعبئا ثقيلا.

برادران اسلام : شادی, ولیمہ, غم وغیرہ میں سماج کی بعض بری عادتوں کے بارے میں ذرا غور کرو ۔ جن میں بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔ تکلیف دہ  تھکا دینے والے خرچ ہوتے ہیں بلکہ  بہت زیادہ قرض جمع ہو جاتا ہے ۔جس کے نتیجہ میں ان لوگوں کے یہاں آپسی زیارت و باہمی ملاقات اور دعوت کا قبول کرنا خوشی و مسرت کے بجائے  غم اور پریشانی  میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یاد رکھو کہ باہمی زیارت انس و محبت , سادگی اور ہم نشینی  کی لذت سے  حاصل ہوتی ہے۔ فخر و مباہات, تکلف اور زینت کے اظہار سے نہیں , یاد رکھو کہ فخر و مباہات سے زندگی بد بختی , غم میں بدل جاتی ہے ۔ بھاری بوجھ بن جاتی ہے ۔  زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

یہ ہیں مختلف مناسبات میں انجام دئیے جانے والے رسوم و راج کے بعض نقصانات۔ اب آئیے شادی کے رسوم و رواج کے اثرات و نقصانات کا  ذرا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح دوسری قسط میں مذکورہ اصول و ضوابط کے خلاف ہیں ۔

  جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ  جب ہم شادی و نکاح کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے شادی کو نہایت آسان بنایا ہے۔آپ کا فرمان ہے:  إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً  یعنی سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ کیا گیا ہو۔اس حدیث کو اگر چہ بعض نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن راجح یہی ہے کہ اس کی سند جید ہے اور  اس معنی کی دوسری روایتیں بھی ہیں مثلایہ روایت: إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ: تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا ، وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا ، وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا  .یعنی عورت کی برکت میں سے  ہے کہ اس کی منگنی , اس کا مہر اور اس  کا رشتہ و قرابتداری آسان ہو۔اسی لیے مہر کی کوئی تحدید نہیں ہے ہر آدمی اپنی وسعت و طاقت کے لحاظ سے مہر متعین کرسکتا ہے اور اس میں ریاء نمود  و شہرت کے لیے  مبالغہ کرنا بہر حال مذموم ہے۔ اسی طرح ولیمہ بھی بہت آسان ہے انسان أپنی استطاعت کے حساب سے بنا کسی تکلف اور  پریشانی کے چھوٹا یا بڑا ولیمہ کسی بھی چیز کا کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کا اور آپ کے اصحاب کا عمل دیکھا جائے  توآپ نے نکاح و ولیمہ دو نوں ہی  بہت ہی سادگی سے کیا ہے۔جو سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے ۔ اور آپ کے اصحاب نے آپ کی مکمل اتباع کی ہے ۔ لہذا ایسا بھی ہوا ہے کہ صرف قرآن کی بعض سورتوں کی تعلیم کی شرط  پر  نکاح کر دیا  گیا  ہے۔اسی طرح ولیمہ میں صرف کجھور و پنیر پر اکتفا کیا گیا ہے۔میں یہاں طوالت کے خوف سے تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں ۔آپ ان کو خود احادیث و سیرت کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے شادی کو بہت ہی آسان بنایا ہے  کیونکہ یہ ہر مرد و عورت کی  بنیادی فطری ناگزیر ضرورت ہے تاکہ سماج کا ہر شخص  غریب و امیر , فقیر و مالدار, نوکر و ملازم  وغیرہ شادی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم نہ رہے اور سماج فتنہ و فساد, شر  اور برائی  سے محفوظ رہے۔مطلب واضح ہے کہ شادی کے رسوم و رواج اسلام کے عام مقاصد  یعنی تیسیر و آسانی کے خلاف ہیں  اور  اس کے اصول و مقاصد کے موافق   نہیں  ہیں  ۔

کیونکہ ان رسوم و رواج کی وجہ سے  شادی و نکاح  لڑکا و لڑکی دونوں کے لیے اور خصوصا لڑکی کے لیے  بہت بڑا   بوجھ بن گیا ہے,  بہت ہی مشکل و پریشان کن  ہوگیا ہے۔ آج کے دور میں غریب کو چھوڑئیے ایک متوسط طبقہ کے شخص کی شادی میں اقتصادی طور پر کمر ٹوٹ جاتی ہے۔بہت سارے لوگ بینک سے قرض لے کر شادی کرتے ہیں۔اسی طرح ان رسوم و رواج کی وجہ سے شادی تمام اسلامی اصول و ضوابط کے خلاف ہے جیسا آگے آرہا ہے۔

 یہاں پر یہ بھی دھیان رکھنا ضروری ہے  کہ  اب  ان  رسوم و رواج یا  عادات و تقالید   کی حیثیت محض  رسوم و رواج یا عادات و تقالید کی نہیں ہے  بلکہ  اب یہ سماج و معاشرہ کا لازمی و ضروری جزء بن گئے ہیں جن کا  سماج کے دباؤ کی وجہ سے انجام دینا ہر شخص پر واجب ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی شخص ان کو انجام نہیں دیتا ہے تو عام طور سے سماج و معاشرہ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لوگ اس کی برائیأں کرتے ہیں۔اس کی بدنامی ہوتی ہے۔ چنانچہ بہت سارے لوگ  نہ چاہتے ہوئے بھی ان رسوم و رواج کو مجبورا انجام دیتے ہیں۔ حد تو یہ  ہے کہ بہت سارے بے حیا و بے شرم لڑکے والے لڑکی والو سے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور مہمانوں کی بہترین ضیافت کا حکم دیتے ہیں ۔ظاہر ہے ان مطالبات کا پورا کرنا ہر ایک کے بس کی بات   نہیں ہوتی ہے۔ کتنے لوگ اس کی وجہ سے مقروض ہوجاتے ہیں۔ کتنے غم و فکر کی وجہ سے دائمی مریض بن جاتے ہیں ۔کتنے اقتصادی اعتبار سے افلاس و غربت کا شکار ہوجاتے ہیں اور کتنوں کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ اور ایسی بہت ساری شادیوں کا انجام بھی ناکامی ہوتا ہے ۔

رسوم و رواج کے بد اثرات  و نقصانات :

 یہی نہیں بلکہ ان رسوم و رواج کی  وجہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہماری بہنیں بنا شادی کے بیٹھی   رہتی  ہیں۔ کتنی ایسی ہیں جو شادی سےپہلے ہی  خودکشی کر لیتی ہیں اور کتنی شادی کے بعد جہیز کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ ایک بیان کے مطابق صرف تین سال میں جہیز کی وجہ سے 25 ہزار لڑکیوں کی اموات ہوئی ہیں ۔ تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں: https://www.bbc.com/urdu/regional/2016/04/160430_indian_women_dowry_doosra_pehlu_rwa  یہ صرف انڈیا  کا تین سال کا  اعداد و شمار ہے ۔ پوری دنیا کا اعداد و شمار اس کے علاوہ ہے۔پاکستان و بنگلہ دیش میں جہیز کی وجہ سے اموات کے بارے میں اس لنک پر دیکھیں:-- https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%DB%81%DB%8C%D8%B2_%D9%BE%D8%B1_%D9%82%D8%A

A%D9%84

جسمانی تشدد و تعذیب اس کے علاوہ ہے ۔ کتنی شادیاں ایسی ہیں جو ان رسوم و رواج کی وجہ سے ناکام ہوجاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں۔کورٹ میں مقدمے ہوتے ہیں ۔ نیشنل کرائم بیروکی ایک رپورٹ کے مطابق مطابق ساڑھے تین لاکھ مقدمات کورٹوں میں درج ہوئے ہیں،جن میں عورتوں نے جہیز کی وجہ سے ہراسانی اورظلم وستم کئے جانے کی شکایتیں کی ہیں۔میرے ایک طالب علم نے جمعہ کے دن 18/6/2021 ع کو شام چھ بجے  رسوم ورواج مٹاؤ تحریک کے ایک آن لائن پروگرام میں بتایا کہ ان کے کے ایک دوست نے  جہیز دینے کے لیے اپنی تین بیگہہ زمین رہن یعنی گروی رکھی ہے ۔ جب کہ ایک دوسرے شخص نے مہر کی ادائیگی کے لیے قرض لیا ہے ۔ اس قسم کے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں واقعات ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہے ۔اور ہمارے پاس ہر قسم کا یعنی  رسوم رواج کی وجہ سے  طلاق, معاشی بدحالی, اموات, خودکشی, تعذیب وغیرہ کا  ڈاتا نہیں ہے ورنہ حالات اس سے کہیں زیادہ خوفناک و وحشتناک ہیں۔پھر بھی  درج بالا اعداد و شمار سے  معاملہ کی خطرناکی و سنگینی کا بہت حد تک اندازہ ہوجاتا ہے۔

  یہ تمام اس رسوم ورواج کی  چند دینی, شرعی, سماجی و معاشی  قباحتیں اور  خرابیاں ہیں ۔ اس کے مفاسد  و نقصانات ہیں ۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان رسوم و رواج کی وجہ سے شادی ان تمام اصول و ضوابط کے خلاف ہے جن کا ذکر دوسری قسط میں ہوا ہے ۔عادات و تقالیدکی وجہ سے   نکاح و شادی بہت سارے لوگوں پر بہت  بڑا بوجھ بن گیا ہے ,  اسلام کے ایک عظیم  آسان و سہل اصول پر عمل کرنا نہایت  مشکل ہو گیا ہے اور حقیقت میں  بہت سارے لوگ اس پر عمل نہیں کرپارہے ہیں  اور یہ تمام خرابیاں انہیں رسوم و رواج, عادات و تقالید کی دین  ہیں تو کیا پھر بھی ہم ان کو عادت و عرف کہہ کے جائز قرار دیتے رہیں اور کب تک ہم ان کو  ان کے مفاسد سے صرف نظر کرتے ہوئے جائز قرار دیتے رہیں گے ۔معلوم ہوا کہ صحیح نقطہ نظر یہی ہے  کہ یہ سب ناجائز ہیں کیونکہ  مشہور فقہی قاعدہ ہے کہ جو چیز حرام تک لے جانی ہو وہ بھی حرام ہوتی ہے ۔ان پر عمل کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے۔

  خلاصہ کلام یہ ہے کہ شادی میں رائج تمام رسوم و رواج  ا بیان کردہ تمام اصول وضوابط کے خلاف ہیں۔ان میں کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف نقصان ہے ۔ اور یہ سماج و معاشرہ کے لیے بوجھ ہیں۔ زحمت و بلاء ہیں لہذا ان پر عمل کرنا کسی بھی حالت میں درست نہیں ہے۔یہ سراسر ناجائز ہیں۔ جو علماء عادت کہہ کے ان کو جائز قرار دیتے ہیں ان کی نظروں سے یہ اصول و ضوابط اوجھل ہیں ۔ اگر وہ ان کو سامنے رکھ کرکے غور کریں گے تو وہ بھی نا جائز ہونے کا فتوی دیں گے ۔

رسوم و رواج پر عمل کرنے کا حکم:

اب ان رسوم و رواج کا حکم جان لینے کے بعد ہر مسلمان پر واجب ہوجاتا ہے کہ ان کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کردے۔امام و خطیب  مسجد حرام  شیخ صالح بن حمید فرماتے ہیں:--

ومن قدَّم هذه العادات والأعراف والتقاليد على شرع الله وحكمه أو تحاكَم إليها بدلًا من التحاكم إلى شرع الله فهذا مُنكَر عظيم، قد يقود إلى الخروج من الملة عياذًا بالله.

ترجمہ: اب اگر کسی نے ان عادات و تقالید, اعراف  و رواج کا شرعی حکم جان لینے کے باوجود ان کو اللہ کی شریعت اور اس کے حکم پر مقدم کیا یا اللہ کی شریعت کو حکم بنانے کے بجائے اس کو اپنا حکم بنایا تو یہ ایک عظیم برائی ہے اور ایسا کرنے والا معاذ اللہ اسلام سے خارج ہو سکتا ہے۔

رسوم و رواج کو مٹانا اصلاح و جہاداور سب کی مشترکہ ذمہ داری  ہے:

اسی طرح ہر شخص خصوصا علماء, طلبا و بڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ رسوم و رواج کو مٹانے کے لیے میدان میں آئیں اور اس کے خلاف سماج میں  بیداری پیدا کریں ۔ عوام کو اس کی مضرتوں و نقصانات سے آگاہ کریں۔ خود عمل کریں اور دوسروں کو عمل کی تلقین کریں اگر چہ ان کو بعض کی طرف سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے ۔کچھ  مصائب جھیلنی  پڑے ۔یہ اصلاح کا عمل ہے ۔ ایسا کرنے والا مصلح ہے  اور ایسا کرنا جہاد ہے ۔ امام و خطیب حرم مکی شیخ صالح بن حمید فرماتے ہیں:----

 ألا فاتقوا الله -رحمكم الله-، ألا فاتقوا الله -رحمكم الله-، فإن من قاوم العوائد السيئة بالنصح والبيان فهو من المصلحين الذين يسعون لإصلاح ما أفسده الجهلة، ومثل هذا وفقه الله وأعانه يواجِه -عادةً- مقاومةً من الجهلة، وهذا نوع من الجهاد، ومن قصر في هذا وهو قادر على الإصلاح وبخاصة من أهل العلم والوجهاء فهو مفرِّط وعرضة للإثم، وأشد منه من يتقرب إلى العامة بمجاملتهم أو إقرارهم على فاسد أعرافهم وعوائدهم.

سن لو: اللہ کا تقوى اختیار کرو۔اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے۔ خبردار اللہ سے خوف کھاؤ۔ جس نے ان بری عادتوں کا نصیحت اور بیان کے ذریعہ مقابلہ کیا تو وہ ان اصلاح کرنے والو میں  سے ہیں جو ان چیزوں کے اصلاح کی کوشش کرتے ہیں جس کو  جاہلوں نے خراب کردیا ہے۔اور ایسے لوگو کو عموما   جاہلوں  کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے ۔ یہ ایک قسم کا جہاد ہے ۔ اور جو  اصلاح کی قدرت رکھنے کے باوجود اس  میں کوتاہی کرتا ہے  خصوصا علماء اور شریف لوگ  تو وہ کوتاہی کرنے والا ہے اور اس کو گناہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اور اس سے بھی زیادہ برا وہ ہے جو عوام کی مجاملت و چاپلوسی کرکے ان کی قربت و نزدیکی حاصل کرتا ہے۔یا ان کے فاسد و غلط اعراف و عادتوں کا اقرار کرتا ہے۔ ( الشیخ صالح بن حمید: العادات و التقالید و أثرہا فی المجتمعات, خطبہ جمعہ حرم مکی, 28-4-1440 ھ)

ڈاکٹر  فہد بن عبد الرحمن السویدان کا کہنا ہے:

ان العادات والتقاليد الموروثة هي من أخطر الأمور على دين الله، لأنها شيء مألوف معتاد، تميل إليه النفس، ويجتمع عليه الناس، ويصعب إقلاعهم عنه. ومن هنا يعظم دور المسلم في نبذ ما يخالف الشريعة الإسلامية، بل ويجب عليه أن يقوم بدور فعال في تغيير مجتمعه -فضلاً عن حمايته- لتوافق عادتُه وتقاليده شرعَ الله، وسواءً كان ذلك فيما يخص المرأة أو فيما هو عام يمس المجتمع كله، حتى ينشأ الأبناء جيلاً قويًّا يحمل شعلة الإسلام وينير الطريق للناس جميعًا.
فعلى جميع العلماء ورجال هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأساتذة الجامعات ومدارس التعليم العام ووسائل الإعلام المقروة والمسموعة والمرئية وعلى الأندية الثقافية والرياضية وأئمة المساجد والأسر وعلى جميع أفراد المجتمع وأصحاب الفكر والثقافة والقلم نشر ثقافة محاربة العادات والتقاليد السيئة وبيان ضررها على الأفراد والمجتمعات.

ترجمہ: بلاشبہ خاندانی موروثی عادات و تقالید اللہ کے دین کے لیے بہت ہی خطرناک چیز ہے ۔کیونکہ وہ ایک ایسی چیز ہے جس سے  انسان مانوس و عادی ہوتا ہے۔نفس اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
لوگوں کا اس پر اجتماع ہوتا ہے اور ان کا چھوڑ دینا بہت ہی دشوار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک مسلمان کا کردار اسلامی شریعت کی مخالف چیزوں کو چھوڑ دینے میں بہت بڑا ہوتا ہے ۔ بلکہ اس کے اوپر واجب ہے  کہ وہ اپنے سماج  کی حمایت کے بجائے اس کو بدلنے کے لیے ایک سرگرم کردار ادا کرے تاکہ اس کی عادات و تقالید اللہ کی شریعت کے موافق ہوجائیں۔خواہ وہ معاملہ عورت سے خاص ہو یا  عام سماج سے جڑا ہو ا  مسئلہ ہویہاں تک کہ ایک ایسی زبردست نسل تیار ہو جو اسلامی شعلہ کی علم بردار ہو اور تمام لوگو کے لیے مشعل راہ ہو۔

لہذاجمیع  علماء , بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے تمام لوگ, یونیورسٹیز  اور مدارس  کے اساتذہ,  پرنٹ و الکٹرانک میڈیا کے وسائل , ثقافتی و کھیل  کود کے کلبس, مسجدوں  کے امام و خاندانوں کے سربراہ, سماج کے تمام افراد,اہل فکر و ثقافت و قلم  سب پر واجب ہے کہ بری عادات و تقالید کے خلاف جنگ و مزاحمت کی ثقافت کو عام کریں اور اس کے فرد و سماج پر پڑنے والے نقصانات کو بیان کریں۔( د. فهد بن عبالرحمن السويدان: محاربة العادات والتقاليد السيئة, جریدۃ الجزیرۃ,يوم الاثنين, 6/8/2012م, العدد14557)

معلوم ہوا کہ یہ ہم  سب کی مشترکہ  ذمہ داری ہے ۔ اب اگر ہم عمل کرتے ہیں ۔ دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو ان شاء اللہ حالات ضرور بدلیں گے ۔ مسلمانو کی اصلاح ہوگی۔ رسوم و رواج کا خاتمہ ہوگا۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ کر بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

لہذا میری تمام مسلمانوسے مؤدبانہ و عاجزانہ گذارش ہے کہ آپ ان رسوم و رواج کو فورا قطعی طور پر چھوڑ دیں ۔ اسی میں ہمارے لیے دین و دنیا دونو کی بھلائی ہے ۔اور علماء کرام سے گذارش ہے کہ بلاوجہ زبردستی کی تاویل کرکے اس کو جائز قرار نہ دیں ۔ سماج و معاشرہ کا بہت نقصان ہوچکا ہے ۔ مزید نقصان سے بچائیں اور ان اسلامی اصول و ضوابط کو اپنے سامنے رکھ کر فیصلہ کریں ۔ان رسوم و رواج کو خود چھوڑ دیں اور دوسروں کو بھی اس سے باز رہنے کی تلقین کریں۔

انہیں  اسلامی تعلیمات و سماجی ذمہ داریوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے  اصلاح و ترقی ایجوکیشنل و ویلفیر سوسائٹی نے رسوم و رواج مٹاؤ تحریک شروع کی ہے ۔ جس میں شامل ہونے کی پرخلوص دعوت آپ کو دی جاتی ہے ۔ امید کہ آپ قبول فرمائیں گے۔

 اللہ تعالى ہم سب کو صحیح سمجھ عطا کرے  اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: