دل کے ارماں آنسؤو ں میں بہہ گئے

 

              دل کے ارماں آنسؤو ں میں بہہ گئے       

                                                                                                    

لوک سبھا جنرل الیکشن 2024ع نیزاس کے نتائج و اثرات  کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئندہ بھی کچھ دنوں تک  یہ  موضوع زیر بحث و زیر تحریر رہے گا ۔اسی  مجلہ کے پچھلے دوشماروں  کے اداریہ میں لگاتار اس پر روشنی ڈالی گئی تھی  اور مئی شمارہ کے اداریہ میں یہ تحریر کیا گیا تھا  کہ بھاجپا  کی بے ایمانی اور الیکشن کمیشن کی جانبداری کی وجہ سے اس کو کو شکست دینا بہت مشکل ہے, اس کی حکومت تیسری بار لگاتار بن سکتی ہے ہاں اس کی سیٹیں یقینی طور پر کم ہوں گی لیکن حکومت اسی کی بنے گی ۔اوراب نتائج  و حقائق سب کے سامنے ہیں,  حقیقت میں وہی ہوا  جیسا کہ تحریر کیا گیا تھا۔اوراب  اس شمارہ میں اس کے نتائج کا تجزیہ پیش خدمت ہے  اور اس کے  بعض اہم گوشوں و پہلؤوں  پر روشنی ڈالی جا رہی ہے ۔

قارئین کرام:لوک سبھا انتخاب کے نتائج  کئی اسباب و عوامل کی بنیاد پر تقریبا اکثر عوام  کی   توقعات کے عین  مطابق تھے اور بھاجپا کو کئی اعتبار سے شکست ہوئی , بس تھوڑی سی کسر رہ گئی, ایم پی29/29, گجرات 25/26, اڑیسہ20/21, دلی 7/7  اور کچھ حد تک بہار  30/40و کرناٹک 17/28نے مودی اینڈ کمپنی کی لاج رکھ لی  اور یوپی کی شکست فاش کی بھر پائی کردی ورنہ کرسی جا چکی تھی ۔

خیر عوام نے ووٹ کی  اپنی طاقت و قوت  دکھا دی ہے اور بھاجپا کو اس کی اوقات و حیثیت یاد دلادی ہے ,اس کی منمانی پر لگام کس دیا ہے اور اس کی ناک میں نکیل ڈال دیا ہے   کیونکہ عوام نے  بی جی پی کو اس بار اکثریت نہیں دی  ہے کہ وہ اپنے بل بوتے  پر حکومت بنا سکے اور پارلیمنٹ میں تنہا  قانون سازی کرکے اس کو پاس کرسکے ۔ کہاں بھاجپا کا دعوى تن تنہا 370 /پار کرنے کاتھا , 370/تو بہت  دور  کی بات ہے وہ  اپنے تمام حلیفوں کے ساتھ مل کرتین سو بھی نہیں پار کرسکی  اور تن تنہا تو 240/ سیٹوں پر سمٹ گئی  اور اس کا سارا گھمنڈ و غرور چکنا چور ہوگیا ۔اسے اپنے مخصوص ایجنڈوں مثلا یو سی سی , این آر سی , سی اے اے وغیرہ  کو ٹھنڈے بستہ میں ڈالنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ جمہوریت پر وار کرنے, تاناشاہی سے حکومت کرنے,  الیکشن کو ختم کرنے, آئین کو رد کرنے, ہندو راشٹر کا اعلان کرنے اور ریزرویشن کو کینسل کرنے سمیت اس کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے اور اس کی تمام خواہشوں کا جنازہ نکل گیا ۔ بقول شاعر:

               ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

               بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

 اور سب سے زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس انتخاب میں  یوپی کی جنتا نے کمال کردیا اور بھاجپا کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ زندگی بھر نہیں بھولے گی۔اور اس  سے  بھی زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے   اجودھیا سے بھی بی جی پی کا کنڈیڈیٹ انتخاب ہار گیا  جہاں رام مندر بنایا گیا اور 22/جنوری 24ع میں اس کا افتتاح کیا گیا۔اب تو حالت یہ ہے کہ بی جی پی کا ہر ممبر یہ گانا گنگناتا پھر رہا ہے:---

    دل کے ارماں آنسؤو ں میں بہہ گئے        ہم وفا کرکے بھی تنہا رہ گئے 

گویا کہ رام نے بھاجپا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب بس کرو,   پہلے ہی سے میرے نام سے  بہت سیاست کرچکے , اب تو میرے نام کی سیاست مت کرو اور میرے نام کی تجارت بند کردو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی اینڈ کمپنی اس پیغام کو سمجھتی ہے یا نہیں ۔لیکن بھاجپا اس سے کہاں باز آنے والی ہے, اسی کے ذریعہ تو وہ کرسی تک پہنچی ہے اور یہی اس کا سب سے مؤثر, کارگر و بڑا   ہتھیار ہے, اور اسی کے ذریعہ و عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان سے ووٹ مانگتی ہے اور کامیاب بھی ہوتی ہے  تو وہ اس سے کیسے دست بردار ہوسکتی ہے ۔

 بلا شبہ  بھاجپا   اپنی حکومت چلانے و اس کو برقرار رکھنے  کے لیے  اپنے اتحادی پارٹیوں  کی محتاج ہے اور اس کی حکومت اس کے دو اہم حلیفوں: نتیش کمار و چندرا نائیڈو کی  بیساکھی پر قائم ہے اور ان کے رحم و کرم پر ہے   جو مستقبل میں کبھی بھی  دغا دے سکتے ہیں  کیونکہ نتیش کمار و چندرا نائیڈو پارٹی بدلنے کے ماہر مانے جاتے ہیں, یہ دونوں کبھی بھی پلٹ سکتے ہیں ۔بقول شاعر:

      ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا          آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

 میرا تو ماننا ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے نتیش اور چندرا کو ابھی سے انڈیا جوائن کرلینا چائیے ۔اوراپوزیشن کے ساتھ مل کر مرکز میں  ایک مضبوط فلاحی و رفاہی عوامی  حکومت بنانی چائیے تاکہ عوام  و ملک دشمن  بھاجپاحکومت سے باہر ہوجائے اور عوام  و ملک کو عذاب اور پریشانی  سے راحت ملے  ۔

ویسے اس الیکشن کے واضح نتائج  میں سے ہے کہ ابھی تک انڈین عوام کی اکثریت مودی شخصیت ,  میجک اور  جھوٹ سے باہر نہیں آسکی ہے , ابھی اس کے لیے اپوزیشن کو اور محنت کرنی ہوگی۔اور سب سے اہم چیز مودی و گودی میڈیا کی کاٹ تلاش کرنی ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے عوام تک حقیقت پہنچ نہیں پاتی ہے ۔ بلا شبہ این ڈی اے  کے کامیاب ہونے اور انڈیا کے مکمل  کامیابی سے چند قدم دور رہنے کی ایک اہم  وجہ میڈیا ہے ۔ ألرچہ کچھ حد تک سوشل میڈیا نے یہ کمی پوری کردی ہے, لیکن یہ اس کا بدل نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے, اس کے لیے مخالف پارٹیوں کو اپنا چینل قائم کرنا چائیے ۔  

جہاں ایک طرف پرچار منتری مودی نے اس الیکشن میں جس طرح پرچار پرسار کیا تھا اور انڈیا کی تاریخ میں  ہردن جھوٹ بولنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا ,  اور انتہائی نچلی سطح پراتر کر عوام کو ڈرانے, بہکانے و  ورغلانے کا کام کیا تھا , اور نہایت پست سطح کی کمپیننگ کی تھی  , وہیں دوسری طرف اپوزیشن  خصوصا کانگریس نے  شروع سے عوامی مسائل جیسے مہنگائی, بے روزگاری, نوکری, آئین و جمہوریت کی بالادستی و اس کی حفاظت, نوجوان, غریب, مزدور, کسان  , اگنی ویر,  عورتوں کو بااختیار بنانا , صاف و شفاف انتخاب وغیرہ  پر ترکیز کی اور ایک بہت ہی عمدہ, شاندار و بے مثال عوامی انتخابی  منشور پیش کیا لیکن عوام و ملک کی   بد قسمتی کہ اسے اکثریت نہیں مل سکی , اب عوام کی عقلوں پر ماتم کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے ۔ایسی صورت میں  عوام  کی بابت عربی مثل "العوام کالانعام " یعنی عوام مثل حیوان ہوتے ہیں  بالکل فٹ بیٹھتا ہے ۔

اس انتخاب کا ایک بہت ہی واضح و صاف نتیجہ  ہے کہ انڈین  عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نظریہ و عقیدہ کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے,وہ اپنے افکار و نظریات کی اسیر ہے اور اس کے پیچھے وہ اپنی  ذاتی مصلحت و مفاد , بہتری و ترقی کو بھی بھول جاتی ہے , اور دھرم کا افیم نیز مصنوعی عظمت و مظلومیت  اسے سب  کچھ بھولنے پر مجبور کرتا ہے۔

اس کے علاوہ درپردہ بی ایس پی نےبی جی پی سے خفیہ ڈیل کی بنیاد پر  انڈیا اتحاد سے اپنے کو الگ  رکھا اور یوپی میں ہرسیٹ پر اپنے کنڈیڈیٹ کو کھڑا کرکے بی جی پی کی مدد کی  اور اس کو تقویت پہنچائی , مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مایاوتی دغا نہ کرتی تو یوپی میں تقریبا 16/مزید سیٹیں بی جی پی کے ہاتھ سے نکل جاتیں , اس وقت نتیجہ اور مختلف ہوتا ۔بلاشبہ بی ایس پی نےاپنے اس عمل سے  اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا اور  وہ ایک سیٹ کے لیے ترس گئی۔

اسی طرح اگر  ایم پی , اڑیسہ , گجرات, دلی  وغیرہ  کے عوام نے کچھ بھی سوجھ بوجھ  و ہوشیاری کا مظاہرہ  کرتے ہوئے 151/سیٹوں میں سے 12/کے بجائے صرف 15 سے 20 /اور سیٹوں پر انڈیا اتحاد کو کامیاب بنایا ہوتا تو آج  نتیجہ بالکل مختلف ہوتا ۔ ایم پی و گجرات کو چھوڑئیے لیکن یہ بات سمجھ سے پرے ہے کہ دیگر  صوبوں کے عوام خصوصا دلی و کرناٹک نے بھاجپا کو کیوں کامیاب بنایا۔ بہت ہی تعجب کی بات ہے کہ دلی کی پبلک اسمبلی الیکشن میں بہت زیادہ اکثریت کے ساتھ  آپ کا انتخاب کرتی ہے لیکن وہی عوام  معلوم نہیں کس وجہ سے لوک سبھا الیکشن میں بھاجپا کو کامیاب بناتی ہے, اسی طرح  کرناٹک کے مئی 2023ع کے  صوبائی الیکشن میں کانگریس نے224/سیٹوں میں سے 135/سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے  بہت بڑی جیت درج کی تھی  اور اس کی کارکردگی بہت اچھی تھی لیکن لوک سبھا الیکشن میں وہ پرفارمنس نظر نہیں آیا, وہی جیت دوبارہ نہیں دہرا سکی  اور وہ اپنا پرانا ریکارڈ  قائم نہ رکھ سکی۔

معلوم نہیں کب ان صوبوں کی عوام بھاجپا کی   چال , جال,  جھوٹ  اور گرفت سے آزاد ہوگی اور معلوم نہیں کب  اس کی    آنکھوں پر بندھی  ہوئی پٹیاں ہٹیں گی اور وہ دن کب آئے گا جب وہ  اپنے عقل و شعور سے کام لے کر فیصلہ کرے گی۔بلاشبہ عوام کی ایک بڑی تعداد  بی جی پی کی مذہب,  ہندتوا اور مسلمانوں سے نفرت و کراہیت کی پالیسی کو دل و جان سے پسند کرتی ہے اور اس پر فدا ہے  , اس کے علاوہ  اس کی   جھوٹی قوم پرستی اور دنیا میں بھارت کا ڈنکا بجانے کے جھوٹے پرچارکا شکار ہوکر عوام اس کے حق میں  ووٹ دینے پر مجبور  ہوتی ہے ۔    

ایک بہت ہی اہم  بات ہے وہ یہ کہ   پردہ کے پیچھے آرآرایس  کی محنت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے سوسالوں میں اندھ بھکت  عوام کی ایک بہت بڑی  زبردست  فوج تیار کردی ہے جو ہر قیمت پر بی جی پی کو ووٹ دیتی ہے خواہ ملک تباہ و برباد ہوجائے  اور اپنے وفادار  افراد کو ملک کے  ہر ادارہ میں داخل کردیا ہے  جو ان کے مفادات و مصالح کی ہر قیمت پر نگرانی کرتی ہےجن میں سے ایک الیکشن کمیشن آف انڈیا بھی ہے ۔

درحقیقت بھاجپا آر ایس ایس  کی سیاسی شاخ  ہے اور اس کا ہرچھوٹے بڑے  انتخاب میں  بھاجپا کی طرف سےپرچار کرنے میں  بہت اہم کردار ہوتا ہے  جو اس نے اس انتخاب میں  بھی کیا ہے۔ خواہ  اس کے صدر نڈا جی کتنا ہی اعلان کریں کہ ہمیں آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن آرایس ایس , اس کا پورا کیڈر اور اس سے وابستہ افراد کسی دوسری پارٹی  کا پرچار کرنے یا اس کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔

یہاں یہ ضمنا  ذکر کردینا بہت ہی برمحل و  مناسب ہے کہ آر ایس ایس نے سب سے زیادہ نقصان کانگریس کو پہنچایا ہے , اس نے اس کے عظیم  وفات پاچکے لیڈران کے خلاف زبردست جھوٹا پروپگنڈہ کیا ہے حتی کہ اس نے گاندھی تک کو نہیں چھوڑا اور اپنے اندھ بھکتوں میں یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا کہ کانگریس نے گذشتہ ستر سالوں میں ملک کو صرف لوٹا ہے, اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے, اور آج ملک کے جو بھی مسائل ہیں اس کی ذمہ داری نہرو کی ہے وغیرہ ۔

بھلا اس میں کیا شک ہے کہ  یہ کانگریس ہی ہے جس نے آر ایس ایس کو پالا پوسا , اس کو بڑھاوا دیا, اس کو تمام سہولیات فراہم کی , اس کے اور اس کے افراد کے  خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا , ویر ساور کر پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا, تعجب کی بات ہے کہ آر ایس ایس کا ابھی تک رجسٹریشن نہیں ہوا ہے اور اس کے بغیر وہ کام کر رہی ہے ۔ یہ سب کانگریس کے زمانہ میں ہوا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس نے ماضی میں کیا کیا بڑی غلطیاں کی ہیں لیکن یہ سوفیصد حقیقت ہے کہ آرایس ایس پر پابندی نہ لگانا, اس کے تئیں نرم رخ اختیا کرنا اور اس کو تمام سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دینا یہ اس کی سب بڑی غلطی ہے ۔ درحقیقت آرایس ایس ایک آستین کا سانپ ہے جس نے اپنے محسن  کانگریس کو بھی ڈس لیا ہے , اگر اس کا یہ ڈسنا صحیح طریقوں سے ہوتا تو کوئی بات نہیں لیکن اس کے لیے اس نے بہت بڑے پیمانہ پر  جھوٹ  وجعل سازی. مکر و فریب  کا سہارا لیا اور کانگریس کو حکومت سے باہر کردیا  اور آج تک وہ باہر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ کانگریس کو اپنے کرموں کی سزا  اب تک مل رہی  ہے ۔

اب آئندہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو کیا وہ اپنے ماضی کی غلطی سے سبق لے کر آرایس ایس اور اس کے افراد کے خلاف سخت ایکشن لے گی یا اپنے سابقہ رویہ پر قائم رہے گی؟  یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن امید ضرورہے کہ کانگریس اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے گی کیونکہ اس کی قیادت اب ان افراد کے ہاتھ میں ہے جو آرایس آرایس کے شکار ہوچکے ہیں اور اس کو اچھی طرح سے جانتے ہیں خصوصا راہل گاندھی جن کا  آر ایس ایس کے بارے میں موقف بہت ہی واضح و بیباک ہے ۔  

ان سب کے علاوہ اس اتخاب کے اہم نتائج میں سے ایک انتخابی کمیشن کا شروع انتخاب ہی سے جانبدارانہ, متعصبانہ و غیر منصفانہ رویہ ہے جس کی وجہ سے وہ عوام کی نظر میں مشکوک ہوگئی ۔مخالف پارٹیوں  نے اس کے بہت سارے افعال و حرکات مثلا : ووٹ ڈاتا جاری کرنے میں تاخیر, ووٹ فیصد میں بعد میں اضافہ, ڈالے گئے ووٹوں سے زیادہ ای وی ایم میں ووٹوں کی تعداد وغیرہ  پر سوال کھڑے کیے جن کا وہ جواب تک نہ دے سکی ۔ انتخاب کے پہلے مرحلے سے لے کر ووٹ کی کاؤنٹنگ تک اس نے حزب اقتدار کا ساتھ دیا اور اس کو کامیابی دلانے میں اہم کردار کیا ۔ بقول بعض ساستدانوں کے اس نے پچاس سے زائد سیٹوں پر بھاجپا کو زبردستی بے ایمانی کرکے جیت دلائی ۔ بقول سریندر راجپوت ترجمان کانگریس  اگر الیکشن صاف و شفاف ہوتا تو بھاجپا سو سیٹوں پر سمٹ جاتی ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ یہ صرف سیاستدانوں کی جملہ بازی ہے یا حقیقت میں ایسا ہوا ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوا ہے تو پھر مخالف پارٹیاں اس کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتی ہیں ۔ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ضروری ہے ۔

بلا شبہ اس نے پورے الیکشن کے دوران بی جی پی کی کھلی حمایت کی اور نریندر مودی کے بر سرعام  انتخابی ضابطہ اخلاق کی  مخالفت کے باوجود اس کے خلاف  کوئی ایکشن لینے کی جرات نہ کر سکی۔ اپوزیشن کی مختلف شکایتوں پر اس نے کان تک نہیں دھرا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے   ووٹوں میں کھیل کی وجہ سے  این ڈی اے کے  اقتدار  کا سفر آسان ہوا۔

بلا شبہ جملوں کے بازیگر ,  جھوٹوں کے سردار و اس کے عالمی  معلم  مودی نے  متضاد افکار و نظریات کے حامل اپنے  مختلف اتحادیوں کے ساتھ مل کر لگاتار تیسری بار   مرکز میں حکومت تو بنالی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیساکھی پر قائم یہ حکومت زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے اور یہ جلد ہی گرجائے   گی کیونکہ اس کے دو اہم حلیف نتیش و چندرا  اس کےبالکل  متضاد اور برعکس  نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ دونوں مسلمانوں کے بارے میں بی جی پی کے نظریہ سے  اتفاق نہیں رکھتے ہیں  اور ان کے ایجنڈے بی جی پی کے ایجنڈوں سے میل نہیں کھاتے ہیں , لہذا جب مستقبل میں  باہمی ٹکراؤ ہوگا تو اس کا نتیجہ حکومت گرنے کی صورت میں سامنے آئے گا ۔

اسی طرح کچھ  تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کو اتحادی حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ اس کا مزاج تاناشاہی ہے, طبیعت میں  ڈکٹیٹر شپ  ہے, جمہوریت اس کو ناگوار ہے  اور  اس نے ہمیشہ ایک تانا شاہ کی طرح  منمانی طور پر حکومت کی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل مختلف امور میں اس کے فیصلہ لینے کا طریقہ ہے  لہذا یہ حکومت کسی بھی صورت میں بہت  لمبی چلنے والی نہیں ہے ۔ خیر آئندہ کیا ہوگا یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا  لیکن جس طرح حکومت سازی اور وزارت کی تقسیم میں حلیفوں کی خواہشات کو درکنار کردیا گیا ہے  اور پھر جس طرح سےاسپیکر کے انتخاب میں اتحادیوں کی آرزؤں کو پیروں تلے روندا گیا ہے ان سب کا اشارہ یہی ہے کہ یہ حکومت چند مہینوں کی مہمان ہے ۔

 حکومت سازی سے لے کر لوک سبھا کے اسپیکر کے انتخاب تک کے حالات و واقعات سے واضح ہوجاتا ہے کہ مودی  اینڈ کمپنی میں کوئی خاص تبدیلی واقع  نہیں ہوئی ہے , اس کو اپنے اتحادیوں کا ذرہ برابر  پاس و لحاظ نہیں ہے, وہ پہلے ہی کی  طرح بنا کسی رکاوٹ و دباؤ  کے منمانی طریقے سے حکومت کرنا چاہتا ہے, اس نے تمام کلیدی وزارتیں اپنی پارٹی میں رکھی ہیں , اپنے چہیتے و غلام   اوم برلا کو اسپیکر بھی بنادیا ہے جس کے کالے کارناموں سے ہر کوئی واقف ہے ۔گویا مودی نے اپنے ان فیصلوں  سے حلیفوں پراپنی  برتری  ثابت کردی ہے  اور ان کو یہ واضح  پیغام دیا ہےکہ وہ ان کےسامنے جکھنے کے لیے تیار نہیں ہے , وہ  کسی قسم کے  دباؤ میں نہیں ہے اور وہ آئندہ بھی ان کے  کسی قسم کے  دباؤ کو قطعا  قبول نہیں کرے گا۔اور بدھ 26/6/2024ع کو اوم برلا نے اپنی وفاداری , غلامی و جانبداری کا  ثبوت پارلیمنٹ میں دیدیا جب اس نے ایمرجنسی کی مذمت کی اور اس کےشکار افراد کے  لیے دومنٹ کی خاموشی اختیار کرنے کو کہا ۔ اس کے علاوہ اس نے بہت ہی سخت لہجے میں ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ جب اسپیکر اپنی جگہ پر کھڑا ہوجائے تو ممبروں کوفورا  بیٹھ جانا چائیے ,  امید ہے کہ یہ بات مجھ کو  آئندہ پانچ سالوں میں دوبارہ   نہیں  کہنی پڑےگی ۔اسپیکر کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے  اپوزیشن جماعتوں کو اس سے کسی خیر کی امید رکھنا صرف خواب و خیال ہے ۔تو پھر کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ یہ حکومت اپنی متعینہ مدت پوری کرے گی۔

الیکشن  و اس کے نتائج کے تعلق سے گنتگو بہت طویل ہوگئی , لکھنے کو تو اور بھی  بہت کچھ ہے لیکن انہیں اہم  نکات پر کفایت کرتے ہوئے بات ختم کی جاتی ہے۔ ہم مسلمانوں کو بھی  اپنے اعمال و افعال  کا جائزہ لینا چائیے , دنیاوی اسباب کو اختیار کرتے ہوئے ہمیں بھی خاموشی کے ساتھ انتہائی محنت و لگن سے اپنے مشن کو جاری رکھنا چائیے اور   اسلام کو اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں نافذ کرنا  چائیے تاکہ ہمیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اللہ خیر کرے  ۔ آمین  تحریرا فی 27-6-2024ع الخمیس

 

السابق
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: