مسئلہ فلسطین اور غلام کوڑا کرکٹ مسلمان قوم

 

                 مسئلہ فلسطین  اور غلام کوڑا کرکٹ مسلمان قوم

                                             بات کڑوی ہے لیکن سو فیصد حقیقت ہے

مسئلہ فلسطین مسلمانو کے دیگر عالمی مسائل  مثلا  برما, مشرقی ترکستان, چیچنیا, قبرص,  کشمیر وغیرہ کی طرح ایک  بہت ہی اہم  حساس مسئلہ ہے ۔ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ زائد از ستر سال پرانا مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ فی الحال  الکٹرانک و  سوشل میڈیا پر زور و شور کے ساتھ زیر بحث ہے کیونکہ ایک بار پھر فلسطین جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔ مسلمان ایک باراور  پوری دنیا میں سراپا احتجاج ہیں ۔ ہر کوئی فلسطین کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے اور اس کی تائئید و حمایت  میں آواز بلند کررہا ہے ۔اور کوئی اپنی فہم و سمجھ کے مطابق اس مسئلہ کوحل کرنے کا طریقہ بھی بتلا رہا ہے۔  کوئی مسلمان ملکوں کو اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے للکار رہا ہے ۔ کوئی سعودیہ سے امید کررہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کردے گا۔ کسی کی آرزو اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی )سے وابستہ ہے ۔ کوئی ترکی سے معجزہ کی امید کر رہا ہے ۔ غرضیکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے اور اسی کی توقع رکھتا ہے۔ اور ہونا بھی یہی چاہئیے ۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے ۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ اس مسئلہ سمیت مسلمانو کے تمام دیگر مسائل  جلد از جلد حل ہو جائیں۔ آمین

لیکن سوال یہاں پر یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ اس بار حل ہوجائے گا۔ مجھے تو بالکل امید نہیں ہے کیونکہ جوقوم ستر سال سے اس مسئلہ کو حل نہ کر سکی اور نہ کراسکی وہ فی الوقت اس مسئلہ کو حل کرلے گی۔ اس سے یہ توقع رکھنا بالکل عبث و بے جا ہے  کیونکہ اس قوم کی حالت میں سترسال  سے  کوئی سدھار یا بہتری نہیں آئی ہے بلکہ  مزید تنزلی  اور پستی آئی ہے ۔ پھر یہ قوم یہ مسئلہ کس طرح حل کر سکتی ہے۔

جہاں تک بات اسلامی تعاون تنظیم کی ہے تو اس  سے کچھ ہونے والا نہیں ہےکیونکہ  یہ تنظیم 1969 ع سے قائم  ہے  ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی نئی تنظیم ہو ۔ لیکن اس کا عالمی پیمانہ پر پہلے  نہ کوئی اثر تھا اور نہ اب کوئی قدر و قیمت ہے ۔اس کے قرارداد کو ترقی یافتہ و دنیا کی قیادت کرنے والے ممالک  چنداں اہمیت نہیں دیتے ہیں۔کیا اس کے قراداد نے ماضي میں  عراق و افغانستان کو امریکہ کے حملہ سے محفوظ رکھا۔ یہ صرف قراداد کی  بادشا ہ تنظیم ہے,  یہ ایک مردہ تنظیم ہے جس کا کوئی اثر نہیں ہے۔اس کا کام صرف اور صرف  نشستند, گفتند و برخاستند ہے ۔دوسری مسلمان تنظیموں مثلا عرب ورلڈ لیگ,  مسلم ورلڈ لیگ وغیرہ  کی بھی یہی حالت ہے۔

 جہأن تک بات سعودیہ و ترکی یا کسی بھی اسلامی ملک کی ہے تو  کسی بھی مسلمان ملک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی کرے ۔ اس کے لیے جس جرات و ہمت , دفاعی اور جنگی  تیاری اور  صلاحیت و ساز و سامان کی ضرورت ہے وہ کسی کے پاس نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ممالک وہی کام کر سکتے ہیں جو وہ گذشتہ  کئی سالوں سے کرتے آرہے ہیں ۔ مذمتی قرارداد اور مالی تعاون سے زیادہ یہ کچھ اور نہیں کر سکتے ہیں ۔ میری نظر میں یہ مسئلہ ابھی اور مستقبل قریب میں مسلمانو کی دینی, سیاسی, اقتصادی, تجارتی, اخلاقی, صنعتی, دفاعی , جنگی وغیرہ   صورت حال کو دیکھتے ہوئے حل ہونے والا نہیں ہے ۔ اس کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :---

  اس مسئلہ کا حل نہ ہونے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ فی الوقت پوری دنیا خصوصا  تمام اسلامی دنیا مغرب کی اقتصادی, فکری, سیاسی و ثقافتی غلامی کی زنجیروں میں بری طرح  جکڑی ہوئی ہے جس سے باہر نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس کے لیے طویل عرصہ در کار ہے ۔  بظاہر آزاد نظر آنے والی یہ مسلم قوم اور مسلمان ممالک بباطن  غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ غلامی کی شکل بدل گئی ہے ۔ پہلے ڈارکٹ فوجی غلامی تھی اب انڈارکٹ سیاسی و اقتصادی و فکری غلامی ہے ۔آج کل دشمنان اسلام  تمام مسلمان دنیا کو   اقوام متحدہ, عالمی بینک, انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ,  انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی   وغیرہ کے ذریعہ  کنٹرول کر رہے ہیں ۔ ہماری پالیسیاں وہی بناتے ہیں اور ہماری قسمت کے فیصلے انہیں کے درباروں میں ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ قانون ہے کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملہ میں قطعا مداخلت نہیں کر سکتا ہے ۔ اگر کسی ملک کے خلاف کوئی کاروائی کرنی ہے  تو اس کے لیے سیکورٹی کونسل سے منظوری لینا ضروری ہے ۔ کیا یہ غلامی نہیں ہے؟آخر ہم کو کس نے اقوام متحدہ کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے لیے مجبور کیا ؟ کیا ہم خود ہی اس کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ 

اور اگر ہم کو  چند چیزوں کی آزادی حاصل ہے یا کسی چیز کی  اجازت ہے تو اس کا مطلب یہ  نہیں  ہے کہ ہم آزاد ہیں ۔ بقول علامہ اقبال (تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ): ملا کو جو ہے دنیا میں سجدے کی اجازت              ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد 

 بلا شبہ یہ قوم ایک ذلیل و پست قوم ہے ۔ اس کے ذلت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ دو ارب تعداد  اور 57 ممالک  ہونے کے باوجود اس کو اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل میں دائمی رکن کی  حیثیت نہیں حاصل ہے ۔ نہ اس کو ویٹو پاورکا حق  ہے ۔ اس سے بڑی بے وقعتی اور ذلت کیا ہو سکتی ہے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی پیمانہ پر ہماری کیا حیثیت ہے۔بلا شبہ ہم غثاء کغثاء السیل یعنی سیلاب کے کوڑا کرکٹ  کی مانند ہیں جیسا کہ حدبث میں وارد ہوا ہے۔

اور کوئی زندہ  اور ترقی یافتہ قوم ہی اپنے کسی مسئلہ کو حل کر سکتی ہے ۔ کوئی غلام قوم اپنا کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتی ہے۔

اس کادوسرا  اہم سبب مسلمان دنیا  کا اپنی بہت ساری  ضرورتوں خاص طور سے سائنس و ٹکنالوجی اور  جنگی ساز و سامان کے لیے بہت زیادہ حد تک  غیر مسلم دنیا پر منحصر ہونا  ہے  ۔ ہم چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے  سےبڑا سامان سب غیر مسلم ملکوں سے خریدتے ہیں۔ کوئی بھی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے جو جنگی و دفاعی ساز  و سامان میں خود کفیل ہو۔ کوئی بھی مسلمان ملک نہیں ہے جہاں اسپیس ریسرچ سنٹر قائم ہو ۔ کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جس کے پاس راکٹ لانچنگ کی صلاحیت ہو ۔ کوئی بھی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے جو سویلین ہوائی جہاز بناتا ہو ۔ جنگی جہاز بنانا تو دور کی بات ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک کے پاس سپر کمپیوٹر نہیں ہے۔ فضاء میں گردش کررہے مصنوعی سیارے جن پر آج کل  عالمی مواصلات کا پورا نظام قائم ہے  سب دشمنوں کے تیار کردہ ہیں۔ اگر دشمن چاہیں تو ہمیں منٹوں میں اس سروس سے محرو م کرکے  مفلوج کرسکتے ہیں۔ انٹرنٹ جس نے آج کی دنیا میں انقلاب پربا کردیا ہے اس کا پورا نظام مفرب کے قبضہ میں ہے ۔ اور آج کی دنیا تقریبا انٹرنٹ پر منحصر ہوچکی ہے ۔ دشمنان جب چاہیں ہمارا نظام درہم برہم کرسکتے ہیں ۔مسلمانوں کا ایک بھی ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نہیں آتا ہے ۔وغیرہ

 یہ ہے ہماری غلامی, پستی  اور ذلت  کہ ہم اپنی زندگی میں دوسروں پر منحصر ہیں ۔ ان کے باوجود اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آزاد ہیں تو اس کی عقل پر ماتم کے سوا اور کیا  کیا  جا سکتا ہے۔  ہماری قسمت کے فیصلے مسلمان ممالک یا ان کے سربراہان نہیں کرتے ہیں بلکہ ہمارے دشمنان کرتے ہیں ۔

پھر کیا ہم فلسطین یا کسی بھی مسئلہ کو حل کرانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

 اس کی تیسری  اہم وجہ مسلمان ممالک کا دوہرا پیمانہ اور ان کی منافقانہ روش ہے ۔ ایک طرف جہاں  ہم کچھ ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلق رکھنے پر مذمت کرتے ہیں اور کرنا بھی چائیے۔ لیکن دوسری طرف امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی اور سپورٹر ہے, اس کو مادی و معنوی مدد دینے والا ہے اس سے تعلقات رکھنے پر فخر کرتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی کچھ تحریر نہیں کرتا ہے اور نہ ہی مذمت کرتا ہے  ۔ جب کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔ اوریہ ایک ناقابل تردید حقیقت    ہے کہ امریکہ کا اقتصاد خلیجی ممالک کے سرمایہ  پر ٹکا ہوا ہے ۔ اگر یہ سرمایہ وہاں سے نکال لیا جائے تو امریکہ اقتصادی اعتبار سے بہت کمزور ہوسکتا ہے۔  میں نے اس نکتہ کو اپنے مضمون " ایک حیران کن سوال: مسلمان ممالک کا دوہرا پیمانہ"  میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ آپ اس کو میرے ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں ۔

 تو کیا ہم اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں ۔

 اس کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں جن کو میں طوالت کی وجہ سے نظر انداز کرتا ہوں ۔ ان کا تذکرہ وقتا فوقتا میں اپنے مضامین میں کرتا رہتا ہوں۔ مسئلہ فلسطین اور ان جیسے  مسائل کا حل بھی میں نے أپنے مضمون " مسلمانو کے لیے ذلت و رسوائی ,  زوال اور پستی سے نکلنے کی واحد راہ"  اور " کیا ہمارے مسائل کا حل صرف دعاؤں میں ہے" وغیرہ میں  پیش کیا ہے جومیری ویب سائٹ پر موجود ہے۔

اللہ تعالى ہمیں حقیت کا ادراک کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ جب تک ہم کو اپنی خامیوں و خرابیوں کا علم نہیں ہوگا ہم سب اس کو دور نہیں کرسکتے ہیں ۔ خوش گمانی میں مبتلا رہنے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ ہم کو کامل اسلام پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین 

 

 

 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

1 التعليقات: