أپنے اندر قربانی کى روح پیدا کیجیے


              مسلمان بھائیو: أپنے اندر قربانی کى روح پیدا کیجیے


              مسلمان بھائیو: أپنے اندر قربانی کى روح پیدا کیجیے

 برادران اسلام

    دین اسلام میں ہر عبادت کا ایک  مقصد ہوتا ہے جس کو اس عبادت کے ذریعہ مسلمانوں میں پیدا کرنا  مقصود ہوتا ہے,  اس لیے  عبادت قربانی کا بھی ایک اہم  مقصد ہے اور وہ تقوی و اخلاص کے ساتھ قربانی کی روح  کو  پیدا کرنا ہے۔ دراصل  قربانی کی روح اور اس کے جذبہ کو بیدار کرنا  ہی قربانی کا ایک بڑا مقصد ہے اورجانور قربان کرنا تو صرف  ایک رمز و علامت ہے,  اور ہم مسلمانوں میں  قربانی کى روح اسی وقت پیدا ہوگی جب ہم اسلام مخالف تمام چیزوں کو قربان کردیں گے  اورکامل  اسلام پرعمل پیرا ہوں گے ورنہ قربانی کی رسم کو پورا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔   

      قربانی کا فلسفہ اور حکمت کو تفصیل سے جاننے کے لیے میرے مضمون "قربانی کا فلسفہ اور حکمت" کا اسی ویب سائٹ پر مطالہ کیجیے۔ 

لہذا عید الاضحى کے اس بابرکت و پر مسرت موقع پر قربانی کى روح کو أپنے اندر پیدا کرتے ہوئے  مندرجہ ذیل چیزوں کی قربانی دیجیے:----

·       آئیے ہم  اللہ کی مرضی پر اپنی مرضی کو اور اس کى خواہشات پر أپنی خواہشات کو قربان کریں۔ شریعت پر کامل طور سے عمل کریں۔ اس کو ہر چیز پر مقدم رکھیں  تاکہ دنیا و   آخرت  دونوں میں سرخرو ہوں اور کامیابی ہمارے قدم چومے۔

·       آئیے ہم ان شب و روز کے بکثرت گناہوں مثلا  ترک نماز, حرام خوری,   رشوت, سود خوری, عریانیت, بے پردگی, بے حیائى, جھوٹ, غیبت, حسد, چغلی وغیرہ کو قربان کریں  جو ہمارے نیک اعمال پر غالب ہیں اور ہمارے سماج و معاشرہ کو تباہ و برباد کر رہی ہیں۔

·       آئیے ہم وہ  جاہلی و غیر اسلامی عصبیت و تعصب کو قربان کریں جس نے ہمیں رنگ و نسل اور  ذات پات کی اونچ نیچ میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہم میں سے بہت سارے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں اور أپنے ہی مسلمان بھائیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو گناہ کبیرہ ہے۔ اصل میں تمام مسلمان برابر ہیں۔فرق کا صرف اور صرف ایک ہی معیار و پیمانہ ہے جو تقوى  ہے۔قبیلے و خاندان صرف پہچان و تعارف کے لیے ہیں۔

·       آئیے ہم وہ ناراضگیاں و تلخیاں حقیقت میں قربان کریں جس سے رشتوں میں تلخیاں و دوریاں ہیں اور صلہ رحمی میں رکاوٹ ہیں۔

·       آئیے ہم غیر مہذب الفاظ و  ناشائستہ کلمات  کو قربان کریں  جو دلوں کو نا قابل تلافی و لا علاج  زخم پہنچاتی ہیں۔

·       آئیے ہم اس انانیت و خود پسندى  کو قربان کریں  جو ہمیں أپنی غلطیوں و لغزشوں کو ماننے و قبول کرنے سے باز رکھتی ہیں۔

·       آئیے ہم وہ رویہ و جذبہ قربان کریں جو ہمارے اندر خود غرضی و مفاد پرستی کو جنم دیتا ہے۔اور جماعت و امت کے مفاد کو أپنی ذاتی و شخصی مفاد پر قربان کرنے کو کہتا ہے۔

·       آئیے ہم نفس أمارۃ بالسوء یعنی   برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا نفس قربان کریں جو کسی کو بھی کسی پر بھی  نقصان پہنچانے اور ظلم کرنے پر ابھارتا ہے۔

·       آئیے ہم وہ دوستیاں قربان کریں جو ہمیں بری راہ دکھاتی ہیں اور جہنم سے قریب کرتی ہیں۔

·       آئیے ہم  شوسل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو قربان کریں جو ہماری زندگی اور نہایت قیمتی اوقات کو برباد کرنے کا سبب ہیں۔اور ہم ان کا استعمال صرف ضرورت کے بقدر ہی کریں۔ غیر ضروری چیزوں اور گناہوں میں ہرگز اس کا استعمال نہ کریں۔ ورنہ آخرت میں  ندامت ہوگی اور اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لہذا شوسل میڈیا کا استعمال بقدر ضرورت کریں اور صرف نیک أعمال میں کریں۔

أگر ہم مندرجہ بالا  چیزوں کی قربانی دیتے ہیں تو یقینی طور پر قربانی کی عبادت کا جو روح  و حقیقی مقصد ہے وہ ہم کو حاصل ہوگیا اور ہماری قربانی کی عبادت قبول ہوگئی ورنہ وہ ایک رسم و رواج ہے جو ہم نے پوری کردی۔

اللہ تعالى ہم تمام مسلمانوکو أپنے اندر قربانی کی حقیقی روح پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

1 التعليقات:

avatar

ماشاء اللہ
بارک اللہ فیک