اسلا م میں عمل صالح کی از حد اہمیت و فضیلت , فوائد و نتائج


         اسلا م میں عمل صالح کی از حد  اہمیت و فضیلت , فوائد و نتائج  
                                        اور
                     ہم مسلمانوں کی بے حسی اور غفلت
                                                                                                     پہلی قسط
    ہر دین و مذہب میں عمل کی بہت زیادہ أہمیت و فضیلت ہے۔دنیا و آخرت دونوں میں عمل کا مقام و مرتبہ بہت ہی ارفع و اعلے , بلند و برتر ہے۔ کائنات  و زندگی میں عمل کی بہت زیادہ قدر و قیمت ہے۔عمل ہی زندگی ہے ۔زندگی ہی عمل ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ناممکن ہے۔ عمل کے بغیر زندگی نہیں اور زندگی کے بغیر عمل نہیں ۔عمل ہی ترقی کا ذریعہ اور زینہ ہے۔ عمل ہی سے دنیا اور زندگی بنتی و سنورتی ہے۔
     دنیا کی ہرشئ اپنےوجود کے پہلے ہی دن سے اللہ کے ذریعہ مقر کردہ عمل کو بنا کسی کوتاہی کے انجام دے رہی ہے۔اگر دنیا کی کوئی بھی چیز أپنے عمل کو انجام دینا بند کردے تو دنیاوی نظام میں خلل واقع ہوجائے گا اور دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی۔دنیاوی زندگی کا دارومدار ہی عمل پر ہے ۔ اگر عمل ہے تو یہ دنیا قائم و دائم , رواں دواں ہے اگر عمل نہ ہو تو یہ دنیا بھی  ٹھپ پڑ جائیگی بلکہ اس کا وجود بھی نہیں رہے گا۔ عمل ہی سے اس دنیا میں رونق اور روانی ہے۔عمل ہی سے دنیا قائم ہے۔عمل ہے تو دنیا ہے دنیا ہے تو عمل ہے۔یہ بھی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔
     عمل اللہ کی عظیم  عبادت ہے۔اس کی اطاعت و فرماں برداری ہے۔ جبکہ عمل نہ کرنا معصیت و نافرمانی ہے۔عمل جہاد ہے۔دنیا و آخرت دونوں کی سعادتوں , کامیابیوں اور کامرانیوں کا دارو مدار عمل پر ہے۔جس قوم نے محنت کی عمل کیا , کامیابی و کامرانی اس کے ہاتھ لگی, قیادت و سیادت نے اس کے قدم چومے۔ اور جس قوم نے عمل و کام میں کوتاہی برتی, غفلت کیا ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بنی۔ذلت و رسوائی اس کا نصیبہ بنی۔ عمل ہر انسان کی پہچان و شناخت ہے۔عمل کے بغیر کسی بھی طرح کی کامیابی کا تصور محال و نا ممکن ہے۔
    عمل ایک ربانی و  الہی اٹل دنیاوی  دستور اور قانون ہے۔لہذا جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے لگاتار بر سر عمل ہے۔اسی طرح جب سے انسان کا وجود ہوا ہے وہ بھی لگاتار و مسلسل عمل کررہا ہے۔عمل ہی تہذیب و تمدن کی بنیاد ہے۔قوموں کی ترقی و تطور کی ضمانت ہے۔عمل کے مطابق ہی ہر ایک کو اس کا بدلہ ملتا ہے۔دنیا اور اس کی مخلوقات کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے عمل کرنا ضروری ہے۔امن و امان اور استقرار کی ایک بنیادی شرط عمل ہے۔دنیا کی ہر شئ عمل کی تعلیم دیتی ہے۔
      جب یہ محض  دنیا کو آباد رکھنے اور انسانی ضروریات کی  تکمیل کے لیے  مطلق عمل کی اتنی زیادہ  عقلی و  شرعی  اہمیت و افادیت ہے ۔ اس کی اتنی زیادہ قدر و قیمت ہے۔تو اسی سےدین و دنیا دونوں میں  عمل صالح کی اہمیت و افادیت, اس کی قدر و قیمت کا بخوبی ندازہ کیا جا سکتا ہے۔بلکہ عمل صالح کا مرتبہ مطلق عمل سے بھی کئی گنا بڑھا ہوا ہے۔اور وہ اس پر بہت زیادہ فضیلت  و فوقیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کا تعلق دنیا و آخرت دونوں سے ہے اور اس کے ذریعہ نہ صرف دنیا کو بحسن و خوبی آباد کیا جا سکتا ہے بلکہ صرف اور صرف عمل صالح ہی آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔بڑی کامیابی کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔جہنم سے نجات کی گارنٹی ہے۔عمل صالح ہے تو آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔اگر کوئی بھی انسان عمل صالح سے تہہ دست ہے اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے خالی ہے۔تو یہ پوری دنیا اس کے کچھ کام نہیں آئے گی۔
      اسلام میں عمل صالح آسمان و زمیں کی تخلیق کا مقصد ہے۔ انسان کی پیدائش کی غرض و غایت ہے۔انسانی موت و زندگی کا فلسفہ اور حکمت ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام میں عمل صالح کی بہت زیادہ اہمیت  و فضیلت ہے ۔ قرآن و حدیث میں بارہا اس کی تاکید کی گئی ہے ۔ اس کے بے شمار فوائد و نتائج کو اللہ سبحانہ و تعالی نے خود قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ بار بار  بیان کیا  ہے۔میں پہلے  درج ذیل  چند  اہم نکات میں  مختصر طور سے اسلام میں عمل صالح کی  از حد اہمیت و افادیت کو پیش کر رہا ہوں۔اس کے بعد ہر نکتہ کی قرآن وحدیث  کی روشنی میں مفصل وضاحت کروں گا۔ان شاء اللہ
1-     اللہ سبحانہ و تعالى نے قرآن کریم کی بہت ساری آیتوں میں عمل صالح کو ایمان کے ساتھ جوڑا ہے ۔اور متعدد بار دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔
2-   ایمان و اسلام کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی نعمت اللہ عز وجل کا أپنے بندہ کو  عمل صالح کی توفیق دینا ہے۔
3-    ایمان کی تعریف میں عمل صالح بھی شامل ہے۔عمل کے بغیر ایمان ناقص اور ادھورا ہے۔
4-   اللہ جل جلالہ نے عمل صالح کے جو بے شمار فوائد, نتائج و ثمرات  قرآن مجید  میں ذکر کیے ہیں وہی  اس کی بے انتہا  اہمیت و افادیت کو بتلانے کے لیے بہت ہیں۔
5-    ہمارے اسلاف باعمل مسلمان تھے۔اور انہوں  نے عمل صالح کے ذریعہ ہی دنیا میں سربلندی حاصل کی تھی ۔اس کے بغیر سیادت و قیادت کی تمنا صرف اور صرف جھوٹا خواب ہے۔
6-    تمام انبیاء اور خصوصا ہمارے نبی کی پوری کی پوری زندگی عمل صالح کی بہترین مثال ہے۔اس سے بہتر مثال کسی اور کی زندگی نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔
7-  عمل صالح کے بغیر تقوى کا حصول نا ممکن ہے۔اور کوئی بھی مسلمان  عمل صالح کے بغیر متقی نہیں  سکتا ہے۔
مندرجہ بالا ان تمام نکات سےقطعی طور پر  واضح ہوجاتا  ہے کہ اسلام میں عمل صالح کی از حد  اہمیت وافادیت ہے  ۔اس کی بہت زیادہ قدر و قیمت ہے اور اسی  پر دنیا و آخرت کی زندگی  کا دارو مدار ہے۔
         اب میں ان شاء اللہ ہر نکتہ کی  تفصیلی وضاحت  بعد میں سلہ وار کروںگا۔




التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

1 التعليقات:

avatar

بہت عمدہ ما شاء اللہ