اصلاح مدارس سے متعلق چند اہم سوالات

 

               اصلاح مدارس : چند اہم  سوالات

   حال ہی میں جب سے اتر پردیش کی  یوگی حکومت نے اسلامی مدارس کے سروے کا حکم دیا ہے اسی وقت سے اسلامی مدارس میں اصلاح کی بات زور و شور سے چل رہی ہے ۔اس کی بابت خوب لکھا جا رہا ہے ۔ ہر کوئی اپنی رائے دے رہا ہے ۔بہت  اچھی بات ہے اسلامی مدارس میں زمانہ کے تقاضہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اصلاح ضرور ہونی ہونی چائیے ۔ میں بھی اس کا حامی ہوں ۔ لیکن کوئی ایسی اصلاح نہ ہو جس سے مدارس کی شناخت ختم ہوجائے یا ان کے قیام کا اصل مقصد, غرض و غایت ہی فوت ہوجائے ۔ کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے مقصد بھی فوت نہ ہو اور اصلاح بھی ہوجائے ۔امت کی دینی حاجت و ضرورت بھی پوری ہوتى رہے اورآج کی دنیاوی زندگی میں  علماء کو درپیش مسائل بھی حل ہوجائیں۔

اور ایسا ممکن بھی ہے کیونکہ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور اس کی بہت ساری  مثالیں  بھی موجود ہیں ۔ بہت سارے مدارس میں طویل عرصہ  سے  دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم دی جاتی ہے ۔ خود على گڑھ میں کئی ایسے مدارس ہیں جن میں عصری و دینی تعلیم دی جاتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں زیادہ زور عصری تعلیم پر دی جاتی ہے ۔ صرف بنیادی  دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس سے طلباء پر بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ان کو محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے ۔ ادارہ کو زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے ۔لیب کا انتظام کرنا ہوتا ہے ۔اور بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن بلا شبہ یہ عصر حاضر کی خصوصا انڈیا میں شدید ضرورت ہے, لہذا اس کو نافذ کرنے میں اگرچہ تھوڑی سی مشقت و پریشانی ہے لیکن طلباء کے فائدہ کے لیے اسے برداشت کیا جانا چائیے۔ ہاں اتنا  ضرور میرا کہنا ہے کہ اس قسم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جو طلباء اسلامی و دینی  تعلیم  کی لائن کو اختیار کرتے ہیں ان کو عالمیت کی سرٹیفکٹ دو سال کے بعد قطعا نہیں دینی چائیے کیونکہ اگر ہم عالمی طور پر دیکھتے ہیں تو انٹر یا بارہویں پاس کرنے کے بعد کسی  بھی طالب علم کو  عام طور سے کسی  پیشہ یا فن  کی ڈگری نہیں ملتی ہے  اور نہ ہی اسے کسی بڑے کام کے  قابل مانا جاتا ہے۔ یہ مرحلہ ثانویہ کے بعد کا ہوتا ہے  لیکن  یہاں  دو سال کے بعد ہی عالمیت جیسی بڑی  ڈگری دے دی جاتی ہے اور اسے عالم مان لیا جاتا ہے  جو صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ عالمیت کا کورس ثانویہ کے برابر ہوتا ہے ۔ بنا بریں عالمیت کا کورس کم ازکم چار سال کا ہونا چائیے تاکہ طلباء  ثانویہ کے بعد دو سال مزید تعلیم حاصل کریں اور ان میں علمی پختگی پیدا ہوجائے پھر ان کو عالمیت کی ڈگری دی جائے۔ آج جوڈھنگ کے معیاری  علماء   میسر نہیں ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔بعض عالمیت سے فارغ  طلباء ایسے سوالات کرتے ہیں جن کو سن کر تعجب ہوتا ہے اور اس سے ان کے اسلامی تعلیمی معیار کا پتہ چلتا ہے ۔ اور شروع کے دور  میں جامعہ سلفیہ میں عالم کا کورس چار سال کا تھا ۔ اور اس کے بہت زیادہ فوائد بھی ہیں جو کسی ذو علم پر مخفی نہیں ہیں ۔

خیر بات ہور رہی ہے اصلاح مدارس کی  تو اس  سلسلے میں میرے ذہن میں بہت سارے اہم  سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں :---

 کیا اصلاح کے وسائل و ذرائع  مدارس کے پاس ہیں؟ کیا اصلاح کے لیے مطلوبہ سرمایہ مدارس کے پاس ہے؟یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر  مدارس خصوصا کورونا  زمانہ سے وسائل و سرمایہ  کی قلت  کے شکار ہیں ۔

اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مدارس ہائی اسکول کا امتحان دلانے کے لیے کسی بورڈ سے اس مرحلہ تک ملحق ہیں , اور اگر ملحق نہیں ہیں تو کیا الحاق کی شرائط کی تکمیل کے بعد  یہ منظوری لے سکتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بہت سارے  مدارس کی سوسائٹیز  یا ٹرسٹ کا رجسٹریشن ہی نہیں ہے ۔ اور اگر رجسٹریشن ہے تو ان کے مدارس کا کسی بورڈ سے الحاق ہی نہیں ہے ۔ اور اگر الحاق و منظوری ہے تو صرف نچلی کلاسز کے لیے ہے ۔ ابھی حال ہی میں على گڑھ میں واقع ایک اسلامی اسکول  کو بند کر دیا گیا کیونکہ اس کے پاس صرف تین کلاس تک تعلیم دینے کی اجازت تھی اور وہ آٹھ تک تعلیم دے رہے تھے ۔ اس مخالفت کی وجہ سے انتظامیہ کو جیل میں ڈال دیا گیا اور مدرسہ بند کر دیا گیا۔

ہائی اسکول مرحلہ تک کے لیے منظوری بہت ہی کم مدارس کے پاس ہے  جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے کیونکہ ہائی اسکول تک منظوری لینے کے لیے جن شروط کی ضرورت ہے وہ ان مدارس میں مفقود ہے ۔ نہ اتنا رقبہ ہے نہ ہی لیب کا انتظام ہے ۔ نہ اس معیار کی بلڈنگیں  ہیں ۔ ایسی صورت میں ہائی اسکول مرحلہ تک الحاق و منظوری خصوصا آج کے دور میں قلت وسائل کو دیکھتے ہوئے بہت ہی مشکل ہے ۔اور جب سے یوگی حکومت اتر پردیش میں اقتدار میں آئی ہے اس نے مدرسہ بورڈ سے الحاق ہی کو بند کردیا ہے  جس کے شروط سی بی ایس اى اور یوپی بورڈ کے مقابلے میں نہایت آسان ہیں ۔ اور پانچ چھ سال سے اس نے کسی مدرسہ کو منظوری نہیں دی ہے ۔

یہی نہیں بلکہ کانگریس دور حکومت میں اس کے  وزیرفروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ  نے  2004 ع میں مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پر ایک کل ہند کمیٹی " مانیٹرنگ آف مائنریٹیز ایجوکیشن ان انڈیا "  بنائی تھی ۔ اور اس کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر بڑے مدارس میں انگلش ,  ریاضی, سائنس وغیرہ مواد کو داخل کرایا گیا تھا ۔ اور ہر  چالیس طلباء پر ایک  عارضی ٹیچر کی تقرری کا اختیار مدارس کے پاس تھا   اورگور نمنٹ ہر مدرس کو بارہ ہزار  روپیہ اپنی طرف سے تنخواہ دیتی تھی۔ لیکن جب" سب کا ساتھ اور سب کا وکاس" کا نعرہ لگانے والے مہا پرش  ملک کے وزیر اعظم بنے تو سب سے پہلے انہوں نے یہ سہولت ختم کردی ۔ اور تمام ٹیچروں کی تنخواہ بند کردی جو ابھی تک بند ہے ۔

اسی طرح آسام کی بی جی پی حکومت نے تمام امداد یافتہ مدارس کو بند کردیا ہے اورایک ہفتہ کے اندر  تین مدارس کو دہشت گردوں  سے تعلق  کے الزام کی بنیاد پر  بلڈوز کردیا اور آخری مدرسہ 31/ اگست  2022ع کو مسمار کیا گیا ۔یہ حکومت اور اس سے وابستہ بہت سارے افراد , شخصیات, تنظیمیں اور جماعتیں مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیتی ہیں اور ان کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں ۔ ابھی   18/ ستمبر 2022ع کو على گڑھ میں ایک تقریب کے دوران  یتی نر سنگھا نند نے تمام  مدارس کو بند کرنے اور ان کو بارود سے اڑانے کی بات کہی ,  اسی طرح   على گڑھ مسلم یونیورٍسٹی کو بم سے اڑانے کو کہا ۔لہذا ایسی حکومت کی نیت پر شک نہ کرنا اور اس کو الہی تدبیر بتلا کے شر میں خیر کا پہلو تلاش کرنا, یوگی کو مجدد قرار دینا اور مدارس کے سروے  پر خوشی منانا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ ایسے لوگوں کی سوچ پر ترس آتا ہے ۔

مدارس کا یہ حالیہ سروے بہت سارے  مدارس کو بند کرنے , ان کو ختم کرنے ,  ان کے اثرات کو زائل کرنے , مسلمانوں کو دینی تعلیم سے محروم کرنےاور ان میں زیر تعلیم طلباء کو ادھر ادھر بھٹکنے کے لیے  چھوڑنے  کی   دشمنوں کی چالیں ہیں ۔

 ہاں اگر امت مالی  تعاون کرے اور اس میں دلچسپی لے  تو پھرکسی  بورڈ کے شروط کے مطابق ان مدارس کو تیار کرکے منظوری لی جا سکتی ہے ۔ اور اگر منظوری مل جاتی ہے تو اس سے طلباء کی تعداد میں مدارس کے اندر اضافہ ہوگا اور یہ ایک پلس پوائنٹ ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے اور اس کے لیے کتنا سرمایہ و وقت درکار ہے؟

 اس کے علاوہ مدار س میں اگر اصلاح کرنی ہے تو اس کے لیے اساتذہ کی ٹریننگ کی ضرورت ہے جو سرے سے مفقود ہے اور کسی بھی مدرسہ میں اساتذہ کی ٹریننگ کا کوئی انتظام نہیں ہے جو آج کے دور میں ایک بہت ہی ضروری چیز ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایک ویڈیو کسی مدرسہ کا وائرل ہوا تھا جس میں ایک استاد بچوں کو وحشیانہ سزائیں دے رہا ہے اور کسی مدرسہ میں تو ایک بچہ کو الٹا لٹکا دیا گیا تھا ۔ یہ سب نہ تو شرعی و اخلاقی اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی زمانہ کے اعتبار سے ۔ اگر کوئی استاد  غصہ سے اس قدر پاگل ہوجاتا ہے اور وہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتا ہے تو اسے استاد  بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اور یہ کمی ٹریننگ کے ذریعہ پوری کی جاسکتی ہے لیکن اس کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ اس کے ذریعہ اساتذہ کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ تدریس کو مؤثر و بہترین بنا جا سکتا ہے ۔ طریقہ تدریس میں تنوع لایا جا سکتا ہے, نئے وسائل و آلات کو استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ وغیرہ

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا عوام کی اکثریت مدارس میں دلچسپی لیتی ہے اور ان کا  مالی تعاون کرتی ہے  بلکہ مدارس  کے فارغین جو وہاں سے نکل کے کسی مالدار ملک میں نوکری کررہے ہیں اور سالوں سے بر سر روزگار ہیں  یا کہیں بھی اچھی کمائی کر رہے ہیں کیا وہ اپنے مدرسہ کا مالی تعاون کرتے ہیں؟ حقیقت   حال  تو یہ ہے کہ اکثر مدارس زکوۃ کی بنیاد پر چل رہے ہیں ۔ اگر زکوۃ کی رقم بند ہوجائے تو اکثر مدارس بند ہوجائیں گے ۔ اور سماج و عوام کا مزاج یہ ہے کہ جب تک ان کے بچے مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو وہ مفت میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اور ان کے والدین و گارجین اپنے کو فقیر ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں فیس ادا نہیں کرسکتا ہوں ۔ لیکن جب انہیں کے بچے کسی یونیورسٹی اور کالج کا رخ کرتے ہیں تو وہ باقاعدہ  فیس ادا کرنے لگتے ہیں اور مستطیع ہوجاتے ہیں ۔ اس سے اسلامی مدارس  و دینی تعلیم کے تئیں  عوام و سماج کے رخ  و نظریہ کا پتہ چلتا ہے ۔

اور آج کے دور میں یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ بہت سارے لوگ زکوۃ نکالتے ہی نہیں ہیں ۔ اور جو زکوۃ نکالتے ہیں ان کے تقسیم کا کوئی اجتماعی نظم نہیں ہے ۔اورجو لوگ  زکوۃ  نکالتے ہیں وہ بھی عموما  اس کے علاوہ  اور کچھ مزید اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام و امت  کا حق ادا کردیا ۔

ایک اہم سوال اور بھی  ہے  ہوسکتا ہے کہ بعض کو یہ ناگوار گذرے اور اس کو تکلیف ہو اور وہ یہ سوال کرے کہ اس کا اصلاح مدارس سے کیا تعلق ہے۔یہ تو بے وقت کی راگنی ہے ۔اس کا  اصلاح مدارس کے ساتھ بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے پھر اس کو یہاں  ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

میرے بھائی : جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس سوال کا تعلق اصلاح مدارس سے ہے, اور دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے ۔ اسی لیے اس کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے ۔  اور وہ سوال ہے کہ کیا آج کے دور   میں صرف مسلمانو ں کے مدارس ہی میں اصلاح کی ضرروت ہے ؟ کیا دوسرے شعبوں میں اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ؟

اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ  موجودہ دور میں مسلمانوں کی زندگی کا کون سا ایسا شعبہ, برانچ, قسم یا ڈویزن ہے جس میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا مساجد میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے ۔کیا ان کا استعمال صرف محدود پیمانہ پر نہیں ہورہا ہے؟ کیا متولیان اپنی من مانی نہیں کر رہے ہیں؟  کیا دعوت و تبلیغ میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے؟  دعوت و تبلیغ کا کام جس قدر  اعلى پیمانہ پر ہونا چائیے  کیا وہ   ہورہا ہے اور کیا  ہم اس میں اپنا کردار ادا کرہے ہیں ؟ کیا دور دراز کے پسمانہ علاقوں میں ہمارے دعاۃ و علماء پہنچ رہے ہیں ؟  اور کیا معاشرہ, گھر, تجارت, اخلاق, بزنس, صنعت و حرفت , تعلیم, عبادات,  زکوۃ , معاملات , عقیدہ وغیرہ میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے؟

کیا ہم نے اسلام کو صرف ظاہری عبادات میں محدود نہیں کردیا ہے ؟

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ  آج کے مسلمانوں کی اکثریت حرام خوری میں مبتلا ہے ۔ بہت سارے لوگ بینک سے سودی قرضہ لے کے کاروبار کرتے ہیں, مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد  حرام تجارت کرتی ہے , بہت سارے لوگ عورتوں کا حق مار کے کھاجاتے ہیں جو حرام ہے ۔

دور حاضر کے اکثر مسلمانوں کا اخلاق انتہائی گیا گذرا ہے ۔معاملات بے حد خراب ہیں ,اکثریت  عبادات  سے غافل ہے ۔کیا زکوۃ کے تقسیم کی ترتیب و تنظیم ضروری نہیں ہے؟

 بلکہ خود علماء, مفتیان, حفاظ, فقہاء کرام  میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے ۔اکثر  جگہوں پر لوگ مجھ سے  علماء کی شکایت کرتے ہوئے ملے ۔ ان میں بھی بہت زیادہ خرابیاں و کمیاں, بیاریاں اور نقائص  ہیں ۔اخلاقی گراوٹ ہے ۔بے عملی و بد عملی ہے ۔ آپسی بغض و حسد , کینہ و کپٹ ہے, معاملات خراب ہیں , حساب میں شفافیت نہیں ہے , قیادت کے صفات سے عاری ہیں, وغیرہ,   اب کوئی یہ نہ کہے کہ علماء دودوھ کے دھلے ہوئے ہیں و غلطیوں سے پاک صاف ہیں ۔ سب کے سب علماء ربانی و حقانی ہیں ۔ان پر انگلی اٹھانا درست نہیں ہے ۔جب کہ حقیقت ہے کہ علماء و حکمرانوں کے فساد و بگاڑ کی وجہ سے امت میں فساد و بگاڑ ہے ۔

تو میرے بھائیو:معلوم ہوا کہ  مسلمانوں میں ہمہ جہتی و چوطرفہ اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمان ایک زوال پذیر قوم ہے ۔ اور جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو اس کا ہر شعبہ اس سے متاثر ہوتا ہے جیسا کہ علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے ۔ لہذا ہمیں صرف مسلمانوں کے مدارس کے اصلاح کی فکر نہ کرکے چوطرفہ و ہمہ جہتی اصلاح کی فکر کرنی چائیے اورصرف وقتی طور پر نہیں بلکہ ہمیشہ اس کی فکر ہونی چائیے کیونکہ یہ ایک طویل مدت کا کام ہے  , دیکھا یہ جاتا ہے کہ مسلمان بہت سارے مسائل میں وقتی طور پر جذباتی ہوجاتے ہیں اور پھر چند دنوں کے بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔یقین کیجیے کہ  جس دن مسلمانوں کی چو طرفہ  اصلاح ہوجائے گی اسی دن مدارس کی بھی اصلاح ہوجائے گی ۔

 اور اگر ہم بفرض محال مدارس کی اصلاح کر لیتے ہیں تو بقیہ شعبوں کی اصلاح کیے بغیر اس سے کوئی خاص  اہم و کارگر نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں ہے ۔کسی چیز کی قیمت پر کسی چیز کو بالکلیہ نظر انداز کرنا اور ہر شعبہ پر اس کی اہمیت کے لحاظ سے مناسب  توجہ نہ دینا  کبھی بھی کامل طور سے بار آور نہیں ہوسکتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ۔

مضمون طویل ہوگیا  میں اس کے لیے معافی چاہتا ہوں ۔ اب ایک آخری بات کہہ کے آپ سب سے اجازت لیتا ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالى نے ہم مسلمانوں کو دنیا کا سب سے اچھا آئین و دستور , نظام و سسٹم دیا ہے ۔ لیکن ہم مسلمانوں کی بد قسمتی و بدبختی ہے کہ ہم نہ اس کی قدر کرتے ہیں اور نہ ہی عملی زندگی میں اس کو نافذ کرتے ہیں ۔ میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ جس دن سے مسلمانوں کی اکثریت اس سسٹم و نظام کو انفرادی و اجتماعی طور پر  نافذ کرنا شروع کردےگی   اس دن سے ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔ اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو و کامیاب ہوگی ۔ اسلام پر عمل کیے بغیر ہم  کچھ  بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ ماضی قریب میں ذلیل و رسوا تھے اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے اگر ہماری یہی روش رہی ۔ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتى یغیروا ما بانفسہم ۔

یہ ہیں چند اہم  سوالات جن پر غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ان کے بغیر اصلاح مدارس کا خواب دیکھنا بیکار ہے ۔

 وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔



 

السابق
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: