اسلامی تہواروں کی نمایاں خصوصیات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی تہواروں کی نمایاں خصوصیات


        برادران اسلام : کیا کبھی ہم نے اس نقطہ  نظر سے  غور و فکر کیا ہے کہ اسلامی تہواروں کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں ؟ عید الاضحی 1436ھ/2015 ع کا موقع ہے لہذا میں نے اس مناسبت سے بہتر سمجھا کہ یہ چند باتیں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کروں ۔ سب سے پہلے میں اس چیز کی وضاحت کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری مراد صرف ان تہواروں سے ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہیں ۔ وہ صرف دو تہوار عید الفطر و عید الاضحی  ہیں جیسا کہ اکثر لوگ جانتے ہیں ۔ میں ان تہواروں کے متعلق بالکل نہیں تحریر کر رہا ہوں جونا م نہاد  مسلمانوں کی ایجاد کردہ ہیں  اور جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلا شب برات, عید میلاد النبی , محرم کا تہوار وغیرہ
  اب میں اسلامی تہواروں کی چند  نمایاں خصوصیات بیان کرتا ہوں :-
پہلی  خصوصیت:  ہمارے اسلامی تہواروں  کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تہوار اللہ کی یاد سے غافل کرنے والے نہیں ہیں بلکہ اللہ سے جوڑنے والے اور اس سے قریب کرنے والے  ہیں ۔اور ہم مسلمان اللہ کے لیے دوگانہ ادا کرکے یہ تہوار اور خوشی  مناتے ہیں۔ اس میں شراب نوشی و ناچ گانا بالکل نہیں ہے اور نہ ہی آداب و اقدار کے منافی چیزیں ہیں۔ جبکہ عملی طور پر  دوسرے مذاہب کی اکثر تہواروں میں اللہ کا کوئی تصور نہیں ہوتا ہے اور لوگ ناچ گانے کے ساتھ ہی شراب نوشی اور طرح طرح کے فسق و فجور کے کام انجام دیتے ہیں۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ دوسرے مذاہب آسمانی مذاہب نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ان میں تحریف ہو چکی ہے۔
دوسری خصوصیت :ہمارے اسلامی تہواروں کی دوسری سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں استعمال کیے جانے والا کوئی بھی چیز ضائع اور برباد نہیں ہوتا ہے۔مثال کے طور پر عید الفطر میں مسلمان نیا کپڑا سلواتے ہیں جو خود استعمال کرتے ہیں۔  عام طور سے شیریں اور میٹھا کھانا بناتے ہیں جو خود کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے ہیں۔
      اسی طرح عید الاضحی میں مسلمان اللہ کے لیے جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔قربانی کرنا اس تہوار کی خاص علامت اور پہچان ہے۔ اس مناسبت سے پوری دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ جس پر کچھ نادان  لوگ کیچڑ اچھالتے اور  اعتراض بھی کرتے ہیں ۔حالانکہ جانور کا کوئی بھی حصہ بالکل ضائع اور برباد نہیں ہوتا ہے۔ گوشت تو استعما ل ہوتا ہی ہےاس کا چمڑا  اور ہڈی بھی مختلف کاموں میں استعمال ہوجاتا ہے بلکہ اس کے بعض اعضاء کا دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حج کے موقع پر پہلے بہت زیادہ قربانیاں ضائع اور برباد ہو جاتی تھیں لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اب ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ حکومت نے انتظام کر لیا ہے۔زائد قربانیاں  دوسرے غریب ملکوں میں تقسیم کردی جاتی ہیں اور مکہ ,جدہ اور دوسرے شہروں میں یہ قربانیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔
   اس کے برعکس دوسرے مذاہب خصوصا ہندو مذہب کی اکثر و بیشتر تہواروں میں سامان کا ضیاع ہوتا  ہے ۔ تباہی و بربادی ہوتی ہے۔مثلا ان کا ایک تہوار ہولی ہے اس تہوار میں وہ   ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں جس سے انسان کا کپڑا و جسم خراب ہوتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ کپڑے پھاڑتے بھی ہیں ۔بھلا یہ کوئی تہوار ہے جس میں کپڑے پھاڑے جائیں ۔ جسم گندا ہو وغیرہ۔اس کے علاوہ وہ  وجے دشمی تہوار میں راون کا پتلا جلاتے ہیں جس سے فضائی  پلوشن ہوتا ہے۔دسہرہ اور گنیش چتردھی  میں  مورتیاں بناتے ہیں پھر ان کو دریا اور سمندر میں لے جا کے ڈال دیتے ہیں جس سے پانی خرا ب ہونے کے علاوہ گندگی پھیلتی ہے۔ماحولیات کے مسائل جنم لیتے ہیں وغیرہ ۔مختلف قسم کے چڑھاوا چڑھاتے ہیں جن میں دودھ کا چڑھاوا بھی شامل ہے ۔جو بت پر انڈیل دیتے ہیں جس سے پورا دودھ ضائع ہو جاتا ہے۔کیا ان سب سے انسانوں کو کچھ فائدہ ہوتا ہے؟کیا ان کا کوئی حصہ کوئی بھی شخص کسی کام کے لیے استعمال کرتا ہے؟ ان میں مال و دولت ,وقت اور میٹیریل کی بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

تیسری خصوصیت: ہمارے  دینی و شرعی تہواروں کی تیسری  بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے تہوار خوشی کے موقع پر بھی غریبوں , مسکینوں , یتیموں اور بیواؤں وغیرہ کو نہیں بھولتے ہیں بلکہ ان کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہیں ۔ مثلا عید الفطر میں مسلمانوں پر صدقۃ الفطر فرض ہے جس کا مقصد ہی عید کے دن غریبوں کو بھیک مانگنے سے بے نیاز کردینا ہے۔ دلیل یہ روایت ہے:عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : ( فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعاً من تمر أو صاعاً من شعير ، على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة ) متفق عليه.
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہر مسلمان مرد و عورت, چھوٹا و بڑا , آزاد و غلام پر زکاۃ الفطر فرض کیا ہے جس کی مقدار ایک صاع کجھور یا  جو  ہے(بخاری و مسلم) اس کے علاوہ اور بھی روایتیں ہیں۔
اسی طرح قربانی کے موقع پر اللہ تعالى نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ قربانی کا گوشت غریبوں کو بھی دیں ۔ فرمان الہی ہے:﴿ وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (حج/36 )
ترجمہ:اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سے بنایا ہے ۔تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے۔پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو۔پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں  تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمھارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔
 دوسری آیت ہے: ﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ , لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (حج/27-28 )
ترجمہ : اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیجیے کہ وہ  تمھارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آیئں۔تاکہ وہ اپنے فائدے (حج میں) دیکھیں۔ اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں ۔خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ قربانی کے گوشت میں فقیروں و مسکینوں کا حصہ ہے۔ اب اگر کوئی ان کا بھی حصہ کھاجاتا ہے تو اس پر اس کے بدلہ میں صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ یہی قول شیخ ابن باز کا بھی ہے۔دیکھیے یہ فتوى: سوال :نرجو توضيح أو ما المقصود بالقانع والمعتر، وما حكم من لم يتصدق أو يهدي من الأضحية؟
جواب: القانع والمعتر فيما ذكر أهل العلم، القانع هو الذي يسأل، يرفع يده ويسأل، والمعتر هو الذي يتعرض ويظهر منه الرغبة في أن يعطى ولكنه لا يرفع يده ولا يسأل، وحكم من لم يتصدق من الضحية قد ترك أمراً واجباً؛ لأن الله قال: فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير، وأطعموا القانع والمعتر، فالواجب أن يعطي من الهدية، وأن يعطي من الضحية بعض الشيء، ويتصدق منها وإذا قسمها أثلاثاً وتصدق بالثلث وأكل الثلث وأهدى الثلث لبعض أقاربه وجيرانه فهذا حسن، وإذا أكلها كلها فينبغي له أن يرى ما يقابل جزءاً منها يتصدق به، مقابل ما أكل من حق الفقراء.
اس فتوى میں قانع اور معتر کی تشریح ہے ۔پھر یہ لکھا ہے کہ جس نے قربانی میں سے کچھ صدقہ نہیں کیا تو اس نے ایک واجب حکم چھوڑ دیاکیونکہ اللہ نے کہا ہے : اس سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ , جو دست سوال نہیں دراز کرتے ہیں اور جو دراز کرتے ہیں دونوں کو کھلاؤ ۔ لہذا   تھوڑا ہدیہ دینا  اور قربانی سے تھوڑا صدقہ کرنا واجب ہے۔ اور اگر اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے  ایک حصہ صدقہ کردے۔ایک حصہ خود کھائے اور ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ہدیہ  دیدے تو یہ اچھا اور بہتر ہے۔ اب اگر وہ  پوری قربانی خود ہی چٹ کرجاتا ہے تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ  دیکھے کہ اس میں سے ایک حصہ کتنا بنتا ہے اور اس کو صدقہ کردے کیونکہ اس نے فقراء کا بھی حصہ کھا لیا ہے۔ ( دیکھیے: WWW.BINBAZ.ORG.SA )
 کیا اس طرح کی تعلیمات دوسرے مذاہب  میں پائی جاتی ہیں ؟ اگر پائی جاتی ہیں تو کیا ان کے ماننے والے اس پر عمل پیرا ہیں؟ مشاہدہ بتلاتا ہے کہ دیگر مذاہب والے اس پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔ مغربی سماج اور معاشرہ کی جو حالت ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے ۔ وہاں پر والدین اپنے بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان پر خرچ کرنے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں ۔ان کو اگر اپنے گھر میں رکھتے ہیں تو ان سے کرایہ لیتے ہیں ۔کرایہ نہ ادا کرنے کی صورت میں ان کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ اپنے ما ں باپ کو اپنے لیے بوجھ تصور کرتے ہیں ۔ان کو بوڑھوں کے گھر میں داخل کر دیتے ہیں وغیرہ۔اس سے مجھے انکار نہیں ہے کہ وہاں پر بھی رفاہی کام ہو رہے ہیں اور بڑے بڑے فیاض لوگ موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا مذہبی تہواروں کے موقع پر کرتے ہیں؟
چوتھی خصوصیت : ہمارے اسلامی تہوار پلوشن فری ہیں ۔ان سے فضاء میں کوئی گندگی نہیں ہوتی ہے۔کیونکہ مسلمان اپنے تہواروں میں نہ کسی کا پتلا پھونکتے ہیں ۔ نہ مورتیاں اور بت دریا و سمندر میں ڈالتے ہیں۔ نہ دریاوں و سمندروں میں ایک ساتھ بہت بڑی تعداد میں غسل کرتے ہیں ۔فضائی پلوشن اور وبائی بیماری کا خطرہ مکہ میں ہو سکتا تھا جہاں حجاج کرام لاکھوں کی تعداد میں ایک ساتھ قربانیاں کرتے ہیں  لیکن جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ یہ مسئلہ اب حل کر لیا گیا ہے۔
 اس کے علاوہ جو تجارتی , اقتصادی اور سماجی فوائد وغیرہ ہیں وہ تقریبا  تھوڑے بہت فرق  کے ساتھ تمام مذاہب کی تہوارں میں مشترک ہیں ۔
آخر میں میں  ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے میرا مقصد کسی مذہب کی تنقیص یا برائی یا کسی اہل مذہب کی دل آزاری نہیں ہے بلکہ میرا مقصد صرف ان  پہلوؤں سے مذہب کے بارے میں سوچنے اور غور فکر کرنے کی  اہل مذہب کو دعوت دینا ہے  جس سے بلا شبہ مذہب اسلام کی صداقت اور حقانیت جبکہ دیگر مذاہب کے باطل ہونے کا  صاف  پتہ چلتا ہے۔
 میں اپنے قارئین سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر بیان فرمائیں تاکہ اس میں جو کمی ہے اس کو دور کیا جاسکے۔ میں آپ کا بے حد ممنون اور مشکور ہوں گا کیونکہ یہ مقالہ میں نے آج ہی بہت جلدی میں تحریر کیا ہے ۔امید ہے کہ پسند آئے گا۔

آپ کی  دعاؤں کا محتاج  : خاکسار  راقم تحریر 
التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: