عرفہ كا دن :فضيلت و احكام

 

بسم الله الرحمن الرحيم

مسجد حرام کے خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ

بتاریخ:۹-۱۲-۱۴۳۵ھ/۳-۱۰-۲۰۱۴ع

 

 

خطبہ وتحریر:ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم

امام وخطیب مسجد حرام وڈین فیکلٹی آف جوڈیشیل و سسٹم اسٹڈیز،ام القری یونیورستی،مکہ مکرمہ

 

ترجمہ: ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق

 مدرس ام القری یونیورسٹی، مکہ مکرمہ

 

عرفہ  كا  دن :فضيلت و احكام

پہلا خطبہ:

       بلاشبہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے،ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں،اسی سے توبہ کرتے ہیں اورہم اللہ کے ذریعے اپنے نفسوں کی برائیوں اور بدعملیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اللہ کا ارشاد ہے:”اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہوتا ہے اور تمھیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“(آل عمران:۱۰۲)۔ایک دوسری جگہ اللہ فرماتا ہے:”اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے بہت مرد اور عورت دنیا میں پھیلادیے،اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو،اور رشتے ناطے توڑنے سے بچو،بلاشبہ اللہ تم پر نگہبان ہے۔“(نساء:۱۔۳)۔ایک جگہ اور ارشاد فرمایا:”اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور صحیح ودرست بات کیا کرو،اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال درست کردے گا  اور تمھارے گناہوں کو معاف کردے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔“(احزاب:۷۰)۔

 

أما بعد

اے لوگوں میں پہلے اپنی ذات کو اور پھر آپ سب کو پوشیدہ اور ظاہر ی طور پر، غصہ اور خوشی کی حالت میں اللہ سبحانہ وتعالی کے تقوی وخوف کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ اللہ کے تقوی ہی سے رنج وغم دور ہوتے ہیں اور مشکلات ومصائب سے نجات ملتی ہے، فرمان إلہی ہے:اور جو شخص اللہ سے ڈرے تو وہ اس کا معاملہ آسان کردیتا ہے (طلاق /۴)۔

اے مسلمانوں: بلا شبہ یہ اللہ کی حکمت اور اس کی اپنے بندوں پر رحمت ومہربانی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے مختلف مواسم بنائے ہیں جن میں وہ تقوی‘ انابتتوبہ، اور اس کی قربت وتقرب کا توشہ لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ امت کسی ایک موسم عبادت سے فارغ نہیں ہوتی ہے مگر وہ کسی دوسرے موسم کا استقبال کر رہی ہوتی ہے، تاکہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کی تجدید کرے اور اس کو مزید قوی ومضبوط بنائے، لہذا وہ اس کی جھونکوں سے اپنا حصہ لیتے ہیں، اور اس کی برکتوں سے غنیمت حاصل کرتے ہیں، اور اس کو اللہ کی رحمت اور اس کی رضامندی کا زینہ بناتے ہیں۔

اور یقینی طور پر ہمارے جلیل الشأن رب نے ماہ ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں کو اپنی طاعتوں اور برکتوں کے فضائل سے بھر دیا ہے، جس کے اندر چھوٹا‘ بڑا‘ کمزرو‘ طاقتور، مرد وعورت سب شریک اور برابر ہیں، اور جس میں روزہ،ذکر وأذکار، تکبیر، صدقہ وخیرات اور اس کی حرمت والے گھر کا حج سب شامل ہے، اور ان سب میں اللہ تعالی نے عرفہ کے دن لوگوں کی حاضری اور ان کے اجتماع کاخاص  طور سے ذکرکیا ہے جبکہ اس دن وہ فرشتوں کے مقابلہ میں ان پر فخر کرتا ہے اور ان کو گواہ ٹہراتا ہے کہ اس نے ان کو بخش دیا، اور یہ اس کا فضل وکرم ہی ہے کہ اس دن کا فائدہ صرف حاجیوں کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ بہت ہی وسیع وکشادہ ہے، لہذا جس  كسي كو بھی اللہ کے  گھرکی زيارت كي توفیق نصیب نہیں ہوئی تو وہ اللہ سے ثواب کی امید کرتے ہوئے عرفہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس سے دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ اس کے بدلہ میں ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کا گناہ معاف کردے گا۔ (مسلم)

 اہل علم کےدواقوال میں  سے صحیح قول كے اعتبار سے چاند کے مطلع میں اختلاف کی وجہ سے اگرکسی ملک میں عرفہ کا دن آٹھ  تاریخ کو پڑتا ہےتو وہ اسی دن روزہ رکھے گاکیونکہ نبی کریم ﷺ نے مطلق فرمایا ہے,اور یوم عرفہ کا لفظ استعمال کیا ہے,اور اس کو نویں دن کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے ۔(یہ مسئلہ شروع  سے اہل علم کے مابین مختلف فیہ رہا ہے ,یہ امام حرم حفظہ اللہ کی رائے ہے لیکن میرے نزدیک ہرملک کی رویت و  تاریخ کے اعتبارے سے روزہ رکھا جائے گا کیونکہ اکثر علماء کی رائے یہی ہے , اور  تمام ہی امور میں حتی کہ قربانی میں بھی مقامی و ملکی رویت کا اعتبار کیا جاتا ہے , لہذا اس میں بھی مقامی و ملکی رویت کا اعتبار ہوگا, اور اسی پر صحابہ کا عمل بھی تھا  جیسا کہ حضرت ابو کریب کی مسلم/693 کی روایت میں ہے کہ اہل شام نے جمعہ سے روزہ رکھنا شروع کیا اور اہل مدینہ نے سنیچر سے روزہ رکھنا شروع کیا ۔واالہ اعلم بالصواب)

اے مسلمانو: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں ذرا سی غور وفکر ہی سے ہر عقلمند اور بصیرت والے کو اس بات کا ادراک ہو جاتاہے کہ بیت اللہ کے حج کے شعیرہ میں بہت زیادہ برکتیں اور فضیلتیں ہیں، اور اسے ظاہری ومعنوی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج (وداع) میں شرعی سیاست،اور  اقتصادی ومعاشی‘ سماجی‘  اور خاندانی نظام وغیرہ میں پائی جانے والی عبرتوں،نصیحتوں‘ فقہ اور حکمتوں کا احساس ہو جاتاہے‘ اور ان سب سے پہلے اسے عقیدہ توحید کا احساس ہو جاتاہے‘ جس کے بغیر ایمان صحیح ہی نہیں ہوتاہے‘ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اپنے خلیل إبراہیم علیہ السلام کو توحید قائم کرنے کے لئے اپنے گھر بنانے وتعمیر کرنے کا حکم دیا تھا، اور حج کی مشروعیت کا مقصد بھی اللہ کی بہت زیادہ تعظیم وتکریم کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراتے ہوئے توحید کو قائم کرنا ہے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گرگیا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دیگی جہاں اس کے چیتھڑے اڑجائیں گے۔ (حج/۳۱)

اے مسلمانوں: میدان عرفات کے پر ہیبت منظر اور عظیم الشأن ہجوم وبھیڑ کے بارے میں غور فرمائیے، جہاں کہ لوگ مختلف زبانوں میں ایک ہی رب کو پکار رہے ہیں،جن کے رنگ اور زبانیں جدا ہیں لیکن ان کا لباس اور عبادت ایک ہی ہے،  ان میں سے کسی کو کسی پر وقوف‘ یا کنکری مارنے‘ یا رات گزارنے‘ یا طواف وسعی کرنے میں کوئی فضیلت وبرتری نہیں حاصل ہے، کیونکہ اللہ کی قربت حاصل کرنے میں کسی واسطہ کی ضرورت نہیں  ہوتی ہے‘ اور نا ہی اس کی مشروع کی ہوئی چیزوں میں کسی کی رعایت کی جاتی ہے، سب کی زبان پر ایک ہی تلبیۃ  لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لبیک، إن الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک، جاری ہے، فرمان باری تعالی ہے  (حج کے چند مہینے ہیں جو مقرر ہیں، لہذا جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبر دار رہنا چاہیئے کہ حج کے دوران میں کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو، اور جو نیک کام تم کروگے وہ اللہ کے علم میں ہوگا، اور سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ تقوی ہے، اور اے ہوشمندوں صرف مجھی سے ڈرو  (بقرۃ / 197)

اللہ تعالی میرے اور آپ کے لئے قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے,اور ان میں موجود آیتوں اور پرحکمت ذکر سے ہمیں اور آپ کو فائدہ پہونچائے, میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور میں اپنے لئے آپ کے لئے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے ہر قسم کی گناہ اور خطا سے مغفرت طلب کرتا ہوں لہذا آپ لوگ بھی  اسی سے مغفرت طلب کیجیئے اور توبہ کیجیئے , بلا شبہ وہ بخشنے والا مہربان  ہے۔

دوسرا خطبہ:

اللہ کے إحسان پر ساری حمد وثنا اسی کے لئے ہے، اور  اس کے توفیق وفضل پرہر طرح کا شکر  اسی کے لئے ہے، أما بعد:

اللہ کے بندو :  اللہ سے ڈرو،پھر اے اللہ کے گھر کے حاجیو، جان لیجئے کہ ایک حاجی کے لئے مشروع ہے کہ وہ عرفہ کی شام دعاء کے لئے فارغ ہو جائے، اور اس دن وہ اللہ تعالی سے دنیا وآخرت دونوں کی ہر طرح کی بھلائی کا سوال کرے، لیکن گناہ یا قطع رحمی کی بد دعا سے پر ہیز کرے، اور جب عرفہ کے دن کا سورج غروب ہو جائے تو وہاں سے مزدلفہ کے لئے سکون واطمينان کے ساتھ اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کوچ کرے، اور جب مزدلفہ پہونچ جائے تو وہاں پر مغرب اور عشاء کی نماز ایک أذان  اوردو إقامت کے ساتھ أدا کرے، اور وہیں پر رات گزارے، اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد صبح کے خوب روشن ہونے تک اللہ سے دعاء کرے، بعد ازاں منی کے لئے تلبیۃ پڑھتے ہوئے روانہ ہو، اور پھر وہان پہونچ کے آج کے دن صرف بڑے جمرہ کوسات کنکریاں مارے،  اور ہر کنکری مارتے ہوئے   اللہ اکبر کہے,اتنا سب کر لینے کے  بعد حاجی حلال ہو جائیگا،  یہ تحلل أول ہے، اس کے بعد اگر اس کے اوپر قربانی ہے، تو اپنی قربانی کرے، پھر اپنا سر منڈائے یا اپنا بال چھوٹا کروائے، لیکن حلق کرانا أفضل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کرانے والوں کے لئے تین مرتبہ دعا  فرمائی ہے، اور بال چھوٹا کرانے والوں کے لئے صرف  ایک  بارہی دعاء فرمائی ہے، مختصر طور پر یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ایک حاجی کے لئے آج کے دن اور عید کے دن انجام دینا مناسب ہے۔

اللہ تعالی حاجیوں کے حج اور روزہ داروں کے روزہ کو قبول فرمائے۔  آمین۔

اللہ أکبر  اللہ أکبر  لا إلہ إلا اللہ اللہ أکبر اللہ أکبر  وللہ الحمد

 ۔

 

 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: